کراچی میں فیروز آباد پولیس نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی اور چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی سمیت کئی افراد کے خلاف دہشتگردی کی دفعات اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ مقدمہ حافظ سہیل احمد جدون نامی شخص کی درخواست پر درج کیا گیا ہے جن کا موقف ہے کہ وہ سرکاری اجازت ناموں کے تحت آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے کہ اچانک 20 سے زائد افراد گاڑیوں میں سوار ہوکر موقع پر پہنچے۔ ان افراد میں فرحان غنی بھی شامل تھے جنہوں نے مبینہ طور پر انہیں گھیر لیا اور پوچھ گچھ کے بعد بدتمیزی اور مارپیٹ کی۔

متاثرہ شخص کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ کام تمام متعلقہ اداروں کی اجازت سے کیا جا رہا ہے تاہم اس کے باوجود نہ صرف ان سے بدسلوکی کی گئی بلکہ ان پر اسلحہ تان کر انہیں قریبی پٹرول پمپ کے ایک کمرے میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع پر پولیس موبائل موقع پر پہنچی اور متاثرہ شخص کو بازیاب کرا کر تھانے لے آئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا تاہم ابتدائی طور پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی بعد ازاں فرحان غنی اور مقدمے میں نامزد دیگر افراد فیروز آباد تھانے میں پیش ہو کر باقاعدہ طور پر اپنی گرفتاری دے چکے ہیں۔
ادھر صوبائی وزیر سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی فرحان غنی اور کچھ افراد کا ایک شہری سے جھگڑا ہوا تھا اور اس شہری نے ایف آئی آر درج کرائی ہے جو اس کا قانونی حق ہے۔
میرے بھائی فرحان غنی (ٹاؤن چیئرمین) اور کچھ ساتھیوں کا گذشتہ روز کسی سہیل نامی شخص سے جھگڑا ہوا تھا اور آج اس نے FIR کٹوائی ہے جو اسکا قانونی حق تھا۔ فرحان غنی سمیت تمام افراد خود گرفتاری پیش کرکے قانون کا سامنا کرتے ہوئے عدالت میں اپنی بیگناہی ثابت کریں گے۔
— Senator Saeed Ghani (@SaeedGhani1) August 23, 2025
انہوں نے یقین دلایا کہ تمام نامزد افراد قانون کا سامنا کریں گے اور اپنی بےگناہی عدالت میں ثابت کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








