اسلام کے 5 ویں بنیادی رکن حج کی دینی اہمیت اور روز مرہ زندگی میں افادیت

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام کے 5 ویں بنیادی رکن حج کی دینی اہمیت اور روز مرہ زندگی میں افادیت
اسلام کے 5 ویں بنیادی رکن حج کی دینی اہمیت اور روز مرہ زندگی میں افادیت

اسلام کے پانچ ارکان ہیں، سب سے پہلے اِس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں، دوسرا نماز قائم کرنا، تیسرا زکوۃ دینا، چوتھا رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور آخری حج کرنا، اسلام کی عمارت اِن پانچ ارکان پر کھڑی ہے۔

اَرکانِ اِسلام کا آخری رُکن حج ہے، جس کا تعلق بیت اﷲ شریف سے ہے، جو مکہ مکرمہ میں ہے۔ جس کی طرف ہر مسلمان پانچ وقت منہ کرکے نماز اَدا کرتا ہے اور یہ فریضہ ہر اُس مسلمان پر عمر بھر میں ایک بار فرض ہے جو وہاں جانے کی طاقت رَکھتا ہو۔

اِرشادِ بارِی ہے ’’اور اﷲ کے لیے فرض ہے لوگوں پر بیت اﷲ کا حج کرنا جو شخص اُس تک پہنچنے کی طاقت رَکھتا ہو۔‘‘ (آلِ عمران)

آئیے حج کی دینی اہمیت اور فرضیت کا جائزہ لیتے ہیں۔

مرکزِ وحی

حج مومن کی زندگی میں ایک عجیب انقلاب برپا کرتا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے گھر کی زیارت کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکزِ ہدایت بنایا ہے اور جو مرکزِ وحی رہا ہے۔ مومن ایک ایسی سر زمین کا مشاہدہ کرتا ہے جہاں سے وحی کی ابتدا ہوئی۔

’’پڑھ اَپنے رَب کے نام سے جو سب کا بنانے وَالا ہے۔‘‘

اور جہاں پر اِس وحی کی تکمیل ہوئی۔

’’آج میں پورَا کرچکا ہوں تمہارے لیے دِین تمہارَا اور پورَا کیا تم پر میں نے احسان اَپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے وَاسطے دِین اِسلام۔‘‘ (المائدۃ)

حج کب فرض ہوا؟

اسلام کے پانچویں رکن کے حوالے سے اکثر علماء میں اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ علماء کا کہنا ہے کہ سن 5 ہجری میں حج فرض ہوا جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ سن 6 ہجری میں حج فرض ہوا لیکن زیادہ صحیح اقوال اُن علماء کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سن 9 ہجری کے آخر میں حج فرض ہوا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے لوگوں پر کعبہ کا حج ضروری ہے، ہر اُس شخص پر جو وہاں تک جاسکے اور اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ (آل عمران آیت نمبر 97)

چونکہ یہ حکم سال کے آخر میں نازل ہوا اِس لئے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ حج سن 9 ہجری میں مسلمانوں پر فرض ہوا۔ یاد رہے کہ سن 9 ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو مسلمانوں کا امیر مقرر کرکے بھیجا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کو حج کرادیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود سن 10 ہجری میں حکمِ الہٰی کی تعمیل کیلئے حج کیلئے تشریف لے گئے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا پہلا اور آخری حج تھا کیونکہ اِس حج کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ عالمتاب اور وجود پر نور نے اس دنیا سے پردہ کیا۔

حج کی دینی اہمیت

حج دینِ اسلام کا پانچواں اہم رکن جو ہر صاحب نصاب شخص پر فرض ہے، دنیا بھر سے ہرسال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان حج کی ادائیگی کیلئے ذی الحجہ کی 8 تاریخ سے 12 تاریخ تک مختلف فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

یہ مجموعۂ عبادات مجموعی طور پر حج اور تمام تر عبادات مناسکِ حج کہلاتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

اللہ کیلئے لوگوں پر اِس گھر (کعبۃ اللہ) کا حج (اس شخص پر) فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور جو (اس کا) منکر ہو تو بے شک اللہ تعالیٰ سب جہانوں سے بے نیاز ہے۔ (سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 97)

استطاعت کے باوجود حج  نہ کرنے پر وعید 

کچھ لوگ استطاعت، جسمانی صلاحیت اور پیسہ ہونے کے باوجود حج نہیں کرتے جس پر اسلام میں سخت وعید آئی۔ حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ جس شخص کے پاس حج کے سفر کیلئے ضروری سامان موجود ہو اور سواری بھی میسر ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچاسکے، وہ اگر پھر بھی حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی۔

حدیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہے کہ حج نہ کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کا وہ نافرمان بندہ ہے جس کے اسلام لانے یا صاحبِ ایمان ہونے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ دینِ اسلام نام ہی اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنے کا ہے۔ جنت یا جہنم کے ساتھ ساتھ کسی شخص کے کافر یا مومن ہونے کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

فریضۂ حج کی ادائیگی کا مختصر طریقہ

ہر سال دنیا بھر سے مسلمان بڑی تعداد میں جمع ہوکرسعودی عرب پہنچتے ہیں، معین میقاتِ حج سے احرام باندھنے کے بعد حجاجِ کرام کعبۃ اللہ کی زیارت کرتے ہیں جہاں طواف و قدوم کیا جاتا ہے۔ دورانِ طواف حجاج کرام باآوازِ بلند لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں جس کا مقصد سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ہے۔

حجاجِ کرام طواف و قدوم کے بعد منیٰ روانہ ہوجاتے ہیں جہاں یوم الترویہ گزارا جاتا ہے۔ پھر میدانِ عرفات میں 1 روز کا وقوف کیا جاتا ہے۔ یہ دن یومِ عرفہ، یومِ سعی اور عیدِ قربانی کہلاتا ہے۔اسی روز مسلمان حلق و قصر کرواتے ہیں یعنی بالوں کو ترشواتے ہیں یا سر مکمل طور پر مونڈ دیا جاتا ہے۔ پھر حجاج شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں جس کے بعد مکہ مکرمہ میں طواف افاضہ ہوتا ہے۔

طوافِ افاضہ کے بعد حجاجِ کرام منیٰ جاتے ہیں جہاں ایامِ تشریق گزارے جاتے ہیں جس کے بعد مکہ واپسی ہوتی ہے۔ طوافِ وداع کرنے کے بعد مناسکِ حج مکمل ہوجاتے ہیں۔

حج اکبر کی فضیلت

رواں سال حج جمعے کے دن ہوگا اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمعہ کے دن کے حج کو حجِ اکبر کہتے ہیں، قرآن مجید میں حج اکبر کا لفظ عمرہ کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے، جمعہ کے دن کے حج کی بڑی فضیلت وارد ہے معتبر کتابوں میں ہے کہ جمعہ کا حج ستر درجہ افضل ہے۔

خیال رہے کہ حج اکبر کی فضیلت کے حوالے سے جو احادیث ملتی ہیں اُن کے حوالے سے بیشتر علماء کرام کا خیال ہے کہ وہ مستند نہیں ہے، اب اِس دن کی کتنی فضیلت ہے اِس بارے میں اللہ کی زات ہی بہتر جانتی ہوگی۔ مگر یاد رہے کہ دنوں کے اعتبار سے جمعے کے دن کی ایک خاص فضیلت ہے اور اِسے بعض مقامات پر مسلمانوں کی چھوٹی عید بھی کہا گیا ہے۔

Related Posts