دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے امِ رباب چانڈیو کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو با عزت بری کردیا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت میں گواہان کے بیانات اور دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کے جج حسن علی کلوڑ کی عدالت میں فیصلہ سنایا گیا اور تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کے پیش نظر سیشن جج دادو کے احکامات پر ضلع دادو میں دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ دادو پولیس کی جانب سے 6 ڈی ایس پیز، 33 ایس ایچ اوز سمیت 700 پولیس اہلکار عدالت کے اندر اور مرکزی سڑکوں پر سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رہے کہ 17 جنوری 2018 کو امِ رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو قتل کر دیا گیا تھا۔
مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو، سکندر چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت 7 ملزمان کے خلاف درج ہے۔
امِ رباب اس وقت شہہ سرخیوں میں آئیں جب وہ تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت آئی تھیں۔
واقعے پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








