کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر، 70فیصد ٹیکس ادا کرنے والے کراچی کے عوام کے لیے جہاں سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولتیں بتدریج کم کی جارہی ہیں وہاں ان اسپتالوں میں لائی جانے والی لاشوں کے لیے بھی کولڈ اسٹوریج (سرد خانوں)کی سہولت غیر اعلانیہ طور پرختم کردی گئیں ہیں۔
شہر قائد کے سرکاری اسپتالوں میں مختلف واقعات اور حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کیلیے کولڈ اسٹوریج کی سہولتیں ختم کردی گئی، اسپتالوں میں جاں بحق ہونے والوں کی لاش ان کے ورثا خیراتی اداروں میں رکھنے پر مجبور ہیں۔
زیادہ تر لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں گھر لے جانے کے بجائے اسپتالوں سے خیراتی اداروں میں رکھواتے ہیں جہاں نماز جنازہ سے چند گھنٹے قبل تدفین کیلیے باڈی کو لے جاتے ہیں، لاش کو تدفین تک محفوظ رکھنے کیلیے کولڈ اسٹوریج میں منفی 4 سے 15 ڈگری سنٹی گریڈ پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
مطلوبہ درجہ حرارت نہ ملنے کی صورت میں باڈی خراب ہونا شروع ہونے لگتی ہے اس لیے ورثا اپنے پیاروں کی باڈی کولڈ اسٹوریج میں دکھوانے کو ترجیحی دیتے ہیں لیکن سرکاری سطح پر یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے باڈیزکو خیراتی اداروں میں امانتا رکھوانے کے رجحان میں اضافہ ہو گیا۔
جناح، سول اور عباسی شہید اسپتال کے میڈیکو لیگل شعبے اورپوسٹمارٹم میں کام کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ کراچی میں یومیہ 25 سے 30 لاشیں مختلف حادثات و واقعات میں اسپتالوں میں لائی جاتی ہیں تاہم اسپتالوں میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان لاشوں کو خیراتی اداروں میں رکھوایا جارہا ہے۔
ایک سرکاری اسپتال میں کوویڈ سے جاں بحق والے50 سالہ ظفر عالم کی اہلیہ نے بتایاکہ میرے شوہرکا رات میں اسپتال میں انتقال ہوگیا تھا اسپتال میں کولڈ اسٹوریج سینٹرنہ ہونے کی وجہ سے لاش کو ایدھی سردخانے لے جایا گیا جہاں میرے شوہر کو رات بھر رکھا گیا تھا دوسرے دن ایدھی سے لاش لے کر مسجد گئے جہاں نمازجنازہ ادا کے بعد قبرستان میں سپردخاک کیاگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد سرکاری اسپتالوں میں قائم کیے جانے والے کولڈ اسٹوریج کو عدم توجہی اور انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے غیر اعلانیہ طورپر ختم کر دیے گئے۔
سول، جناح اور عباسی اسپتال کے میڈیکو لیگل شعبے کے مطابق جناح اسپتال، سول اسپتال، عباسی اسپتال سمیت کسی بھی اسپتال میں مطلوبہ درجہ حرارت کی سہولت نہ ہونے اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کیلیے کوئی کولڈ اسٹوریج کی سہولت میسر نہیں۔
اس طرح کراچی میں مختلف حادثات و واقعات میں جان بحق ہونے والوں کی لاشیں سرکاری اسپتالوں میں کولڈ اسٹوریج کے بجائے خیراتی اداروں میں رکھوائی جارہی ہیں جہاں پر خیراتی ادارے لاشوں کو رکھنے، غسل اور کفن کی مد میں 2 سے 3 ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایکسپو سینٹر مرکز میں طبی عملے کی ہڑتال، کورونا ویکسینیشن معطل
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








