انسان ایک بڑی عجیب مخلوق ہے۔ کبھی کبھی اسے برسوں سکھانے اور پڑھانے سے اسے کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی اور کبھی کبھی کچھ نہ بتانے کے باوجود اسے سب کچھ معلوم ہوجاتا ہے۔
آج سے ہزاروں سال پہلے یونان میں جنم لینے والے ارسطو کو آج دنیا بھر میں صرف اس سبب سے شہرت ملی کہ اسے موجودہ دنیا کے جدید علوم پر اس قدر ملکہ حاصل تھا کہ ان میں سے بیشتر ماہرینِ علوم آج بھی اس کے نظریات سے اکتسابِ فیض حاصل کر رہے ہیں۔
ارسطو کی پیدائش سنِ عیسوی کی ابتدا سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ارسطو 384ء قبلِ مسیح میں مقدونیہ کے علاقے استاگرہ میں پیدا ہوا اور والد سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 18 سال کی عمر میں یونان کے مشہور شہر ایتھنز میں رہائش اختیار کی۔
افلاطون ارسطو کا استاد تھا لیکن ارسطو کو اس کے نظریات میں خامیاں نظر آتی تھیں۔ ارسطو نے علم و حکمت پر وہ کمال حاصل کیا کہ ایک دنیا نے اس کے کمالِ فن کے گن گائے۔
دنیا میں سب سے زیادہ فتوحات کرنے والا یونانی حکمران سکندرِ اعظم ارسطو کا شاگرد تھا۔ ارسطو نے فزکس اور حیاتیات یعنی بائیولوجی جیسے علوم پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے کہ اس کے نظریات کے بغیر سائنس آج بھی مکمل نہیں ہوتی۔
ارسطو کے نظریات میں یقیناً کچھ نہ کچھ خامیاں بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ارسطو سمجھتا تھا کہ خدا ایک ایسی مقناطیسی قوت ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ وہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتا ہے جبکہ زندگی اور حرکت اسی کشش کانتیجہ ہے۔
اس نظرئیے میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا چودہ سو سال پرانا مذہب اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کسی قوت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی ہستی کا نام ہے جس نے ساری قوتیں پیدا کی ہیں۔
اگر اسلام سے ہٹ کر دلائل کے اعتبار سے بھی ارسطو کے اس نظرئیے کا جائزہ لیا جائے تو ارسطو نے سائنسی مفکر کی نظر سے خدا کو دیکھنے کی کوشش کی۔سائنسی تعریف کی رو سے بھی یہ نظریہ غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کی ہر چیز ایک ہی سمت کی طرف جا رہی ہوتی جس سے خدا کا پتہ چل سکتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔
بعد میں نیوٹن نے قوانینِ حرکت وضع کیے جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایک چیز اپنی جگہ پر اس وقت تک پڑی رہتی ہے جب تک کوئی اسے وہاں سے نہ ہلائے۔ یعنی خدا نے ہر چیز کو آزادی دے رکھی ہے کہ وہ جہاں چاہے جاسکے۔
ارسطو کا دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خدا بے نیاز ہے۔ وہ اپنی نمود و نمائش سے مبرا اور جنت و جہنم، نیکی اور بدی سے ماورا ہے۔ یہ نظریہ مکمل طور پر درست دکھائی دیتا ہے جس پر اعتراض بے سود ہے۔
اس کے علاوہ ارسطو کے دیگر نظریات بھی قابلِ تعریف ہیں جیسے وہ کامل انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیتا ہے۔ اعتدال کا راستہ ارسطو کے نزدیک بہترین ہے جسے آج کے محققین بھی توصیفی نظروں سے دیکھتے ہیں۔
خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے یہ بتاتے چلیں کہ ارسطو خواتین کو ذہنی و جسمانی طور پر مردوں سے پست قرار دیتا تھا جس پر جدید دنیا اور اسلامی مفکرین بھی اس کی حمایت نہیں کرسکتے۔
سن 322 قبلِ مسیح میں آج ہی کے روز ارسطو کی موت واقع ہوئی۔ وہ دنیا سے چلا گیا لیکن آج بھی ہم اسے یاد کرتے ہیں گویا ہزاروں سال گزر گئے اور ارسطو کی موت واقع ہو کر بھی اسے مار نہ سکی۔ ارسطو آج بھی زندہ ہے!