چینی تاریخ کی ہزیمت۔۔۔ سلطنتِ چنگ کا زوال

تازہ ترین

تازہ ترین

اگر چین کی جدید عالمی حیثیت کو سمجھنا مقصود ہو تو اس کی تاریخ کے سب سے فیصلہ کن اور تکلیف دہ دور یعنی 1839ء سے 1911ء تک کے عرصے کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی وہ صدی تھی جس میں چین نہ صرف سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں تحقیر  و شکست سے دوچار ہوا بلکہ داخلی انتشار، نسلی کشیدگی، معاشی بدحالی اور سیاسی کشاکش  کے باعث اپنی صدیوں پرانی ریاستی  عظمت کھو بیٹھا، اور یہی وہ سبق آموز تاریخی حقیقت تھی  جس نے بعد ازاں جدید چینی ریاستی سوچ کی بنیاد رکھی۔

انیسویں صدی کے آغاز میں چنگ سلطنت بظاہر دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور قدیم ترین ریاستی روایت کی حامل تھی، مگر اندرونی سطح پر یہ ایک ایسے نظام کے تحت چل رہی تھی جو تکنیکی جدت، عسکری جدیدیت اور عالمی سیاست کی نئی حرکیات کو سمجھنے سے قاصر تھا، چنانچہ 1839ء میں برطانیہ کی افیونی تجارت کے خلاف چینی مزاحمت نے برطانیہ کے ساتھ پہلی افیونی جنگ کو جنم دیا، جو محض ایک تجارتی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا ابتدائی مظہر تھا۔

افیونی جنگ کے دوران جدید برطانوی بحری بیڑے اور اس وقت کے جدید  اسلحے نے چینی روایتی افواج کو شکست دی، نتیجتاً  1842ء کے معاہدہ نانجنگ کے تحت چین کو نہ صرف ہانگ کانگ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ متعدد بندرگاہیں غیر ملکی تجارت کے لیے کھولنی پڑیں، بھاری تاوان ادا کرنا پڑا اور قانونی خودمختاری ترک کرنی پڑی، جس نے چین کو ایک نیم نوآبادیاتی ریاست میں تبدیل کر دیا اور اس دور کو چینی قومی حافظے میں “ذلت کی صدی” کے آغاز کے طور پر محفوظ کر دیا۔

اسی خارجی دباؤ کے ساتھ داخلی بحران بھی شدت اختیار کرتا چلا گیا، کیونکہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ، زمین کی کمی، بدعنوانی، رشوت ستانی، بھوک اور بے روزگاری نے سماجی بے چینی کو جنم دیا، ساتھ ہی ساتھ منچو حکمران اقلیت اور ہان اکثریت کے درمیان نسلی خلیج نے سیاسی نظام کو مزید غیر مستحکم کر دیا، اور یہی عوامل 1850ء میں تائی پنگ بغاوت کے آغاز کا باعث بنے، جس نے نہ صرف جنوبی چین کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ  ریاستی ڈھانچےکو تقریباً مفلوج کرتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔

تائی پنگ بغاوت کے ساتھ ساتھ دوسری افیونی جنگ، فرانس اور جاپان سے عسکری تنازعات اور مغربی طاقتوں کی سامراجی پیش قدمی نے چنگ سلطنت کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھا، اور 1895ء میں جاپان کے ہاتھوں عبرتناک شکست اور معاہدہ شیمونوسیکی نے چین کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہوئے ایشیائی طاقت کے طور پر اس کی تاریخی حیثیت کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جس کے نتیجے میں اصلاح پسند دانشوروں اور انقلابی حلقوں میں سیاسی تبدیلی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا۔

سال 1898ء کی 100روزہ اصلاحات چینی ریاست کو آئینی بادشاہت اور جدید قومی ریاست میں تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی ، مگر قدامت پسند اشرافیہ اور مہارانی سیسی کی مزاحمت نے ان اصلاحات کو ناکام بنا دیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ریاستی ڈھانچے کو بدلے بغیرمحض محدود اصلاحات ایک  زوال پذیر سلطنت کو بچانے کے لیے ناکافی ہیں۔ اس کے فوراً بعد 1900ء کی باکسر بغاوت کے ذریعے چینی عوام نے غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف اپنے ردِ عمل کا اظہار تو کیا، مگر عالمی طاقتوں کی مشترکہ فوجی مداخلت نے چین کو مزید مالی اور عسکری طور پر کمزور کر دیا اور بھاری تاوان نے ریاستی ڈھانچہ اور معیشت مفلوج کرکے رکھ دی۔

بیسویں صدی کے آغاز میں چنگ سلطنت نے تعلیم، فوج، معیشت اور سیاست میں جدیدیت لانے کی آخری کوششیں کیں، مگرپانی سر سے گزر چکا تھا اور پھر داخلی مزاحمت، مالی بحران اور انقلابی تحریکوں کے باعث یہ اصلاحات مؤثر ثابت نہ ہو سکیں، حتیٰ کہ 1911ء کی ووچانگ بغاوت نے 2000سالہ شاہی نظام کے خاتمے کا آغاز کیا اور 1912ء میں جمہوریہ چین کے قیام کے ساتھ ایک تاریخی دور اختتام پذیر ہو گیا، اگرچہ اس کے بعد بھی چین طویل عرصے تک خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

یہ تاریخی مرحلہ محض ایک سلطنت کے زوال کی کہانی نہیں بلکہ ریاستی جمود، ادارہ جاتی کمزوری، تکنیکی پسماندگی اور عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کو نہ سمجھنے کی ایک کلاسیکی مثال ہے، جس نے چین کو یہ احساس دلایا کہ جدید دنیا میں طاقت کا معیار محض تاریخی عظمت نہیں بلکہ عسکری، معاشی، تکنیکی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔

یہی وہ تاریخی شعور تھا جس نے بیسویں صدی کے وسط اور اکیسویں صدی میں چین کو ایک نئے راستے پر ڈال دیا، جہاں ریاستی تسلسل، طویل المدتی منصوبہ بندی، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی اصلاحات کو قومی سلامتی اور قومی وقار کے بنیادی ستون کے طور پر اپنایا گیا، اور نتیجتاً چین کو آج دنیا کی مایہ ناز عالمی طاقت اور معاشی سپر پاور کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کی جی ڈی پی، صنعتی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ اسے عالمی نظام کا ایک مرکزی کھلاڑی بنا چکے ہیں۔

اسی تناظر میں اگر پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ مشابہت نمایاں ہوتی ہے کہ پاکستان بھی ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ریاستی کمزوریاں، معاشی بحران،  رشوت ستانی و بدعنوانی، ادارہ جاتی عدم استحکام ، انسانی وسائل کی ترقی اور عالمی نظام میں محدود اثر و رسوخ  قومی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، تاہم چین کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ زوال حتمی تقدیر نہیں بلکہ اگر ریاستیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا ازالہ کرتے ہوئے طویل المدتی وژن اختیار کریں اور قومی اہداف کو ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے عملی شکل دیں تو وہ نہ صرف داخلی کمزوریوں پر قابو پا سکتی ہیں بلکہ عالمی نظام میں باوقار مقام بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ریاستیں محض نعروں یا جذباتی سیاست سے نہیں بلکہ دانشمندانہ اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، بہترین انتظام و انصرام، جدت پسندی و ایجادات  اور تاریخی شعور کے ساتھ کیے گئے فیصلوں سے ہی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہیں، اور اگر پاکستان میں سیاسی اکابرین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ریاستی ڈھانچے اور پالیسیوں کی تشکیل نو کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ چین کی طرح پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے اور غربت، مفلسی، بے سروسامانی، کسمپرسی سے پاکستان کی کثیر آبادی کو نجات نہ دلائی جاسکے۔

Related Posts