بھارتی ریاست تلنگانہ کے علاقے کریم نگر گنگادھرا کے ایک سرکاری اسکول میں ایک شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اسکول کے ملازم محمد یعقوب باشاہ نے لڑکیوں کے باتھ روم خفیہ کیمرے نصب کر رکھے تھے۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل چند طالبات نے باتھ روم میں ایک مشکوک چیز دیکھی اور والدین کو اطلاع دی جس کے بعد معاملہ اسکول حکام تک پہنچا اور تحقیقات کے بعد پولیس نے یعقوب باشاہ کے خلاف بچوں سے جنسی ہراسانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یعقوب باشاہ گزشتہ دو سال سے اسکول کی طالبات کی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہا تھا جبکہ وہ اسکول کے مختلف پروگراموں کی تصاویر بھی لیتا اور بعد میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انہیں فحش انداز میں تبدیل کر کے طالبات کو بلیک میل کرتا تھا۔
یعقوب پر الزام ہے کہ نے خفیہ کیمرے سے کھینچی گئی اور اے آئی سے بنائی گئی تصاویر سے چھ طالبات کو ہراسانی کا نشانہ بھی بنایا ہے۔پولیس نے یعقوب کے خلاف بچوں سے متعلق جرائم کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ محکمہ تعلیم نے اسے ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








