پاکستانی شوبز کے معروف فنکار بلال قریشی اور نادیہ افگن نے حال ہی میں ایک ایسے سماجی مسئلے پر بات کی ہے جو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جنازوں اور تعزیتی تقاریب میں کھانے کے اہتمام کی روایت۔
دونوں فنکاروں نے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غمزدہ خاندانوں پر اضافی مالی دباؤ ڈالتا ہے بلکہ معاشرتی دکھاوے کی ایک غیر ضروری مثال بن چکا ہے۔
اداکار بلال قریشی نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنازوں میں کھانے کے اہتمام پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان پہلے ہی تدفین، کفن، اور دیگر اخراجات سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ زندگی مہنگی ہو چکی ہے، کم از کم موت کو آسان بنایا جائے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے کئی خاندان محض اس خوف سے کھانا تیار کرواتے ہیں کہ کہیں لوگ انہیں کنجوس یا بے لحاظ نہ سمجھیں۔
بلال قریشی کے اس مؤقف نے سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا، جہاں بڑی تعداد میں صارفین نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعزیت دکھاوے کا نہیں بلکہ سادگی اور ہمدردی کا موقع ہونا چاہیے۔
کچھ افراد نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جنازے کے بعد کھانا کھلانا صدیوں پرانی ثقافتی روایت ہے، جسے اچانک ختم کرنا ممکن نہیں۔
اسی حوالے سے معروف اداکارہ نادیہ افگن نے بھی انسٹاگرام پر اپنی ایک کہانی شیئر کرتے ہوئے معاشرتی رویوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اپنے والد کے انتقال کے موقع پر انہیں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ ان کے دکھ کے عالم میں کالونی کے انچارج نے ان سے یہ سوال کیا کہ کرسیاں، ٹینٹ اور کھانے کا انتظام کہاں سے ہوگا؟
نادیہ افگن کے مطابق وہ دن انہوں نے غم کے بجائے مہمان نوازی میں گزار دیا لوگوں سے پوچھتی رہیں کہ کیا آپ نے کھانا کھایا؟ کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟
اداکارہ نے جذباتی انداز میں لکھا کہ میرے مرنے پر جس نے آنا ہے، وہ آ جائے، جس نے نہیں آنا، وہ نہ آئے۔
نادیہ افگن کے اس بیان نے بھی عوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں لوگوں نے معاشرتی دکھاوے اور غیر ضروری رسموں کی مخالفت کی ہے۔ دونوں فنکاروں کے بیانات نے یہ سوال ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ کیا واقعی ہم نے سوگ کو ایک سماجی تقریب میں بدل دیا ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








