کراچی: انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ گراوٹ کا شکار ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز کاروباری دن کے آغاز پر بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا اور کاروبار کے دوران ڈالر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 227 روپے سے تجاوز کرگیا۔
انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے 08 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 224 روپے 92 پیسے سے بڑھ کر 227 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
ٹیسلا نے کرپٹو کرنسی کی زیادہ تر ہولڈنگز کو فروخت کردیا
خیال رہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے ملک میں روپے کی قدر میں گراوٹ دیکھنے میں آرہی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد11 اپریل سے اب تک ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے۔
پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 204.85 کی سطح پر بند ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق ملک کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے۔ جو عالمی مارکیٹ میں تیل، گیس اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھا ہے۔
علاوہ ازیں آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی میں تاخیر اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








