کراچی کے زوال سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں،میاں زاہد حسین

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کے زوال سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں،میاں زاہد حسین
کراچی کے زوال سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں،میاں زاہد حسین

کراچی:پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم ترین شہر کراچی دنیا میں سب سے زیادہ بدانتظامی کا شکار ہے۔

کراچی کی تباہی میں تمام ا سٹیک ہولڈرز برابر کے شریک ہیں اور کسی ایک کو الزام نہیں دیا جا سکتا ہے۔کراچی کے زوال سے معیشت،سیاست،روزگار اور سماج پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور کراچی جو اس وقت سا لانہ 2600ارب روپے قومی خزانے میں بطور ٹیکس جمع کرواتا ہے اگر اس کو ماڈل شہر بنا یا جائے تو یہ شہر قومی خزانے میں 4000ارب روپے سے زیادہ جمع کراسکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بارشوں سے جہاں معاشی، تجارتی، صنعتی اور سماجی سرگرمیاں رک گئی ہیں وہیں بندرگاہوں پر بھی کام بری طرح متاثر ہواہے۔

ملازمین اور مزدور کام پر نہیں آ پا رہے ہیں جبکہ کارگو لانے اور لے جانے میں بھی مشکلات حائل ہیں۔اس صورتحال سے ہر قسم کی درآمدات اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں اوراگر صورتحال یہی رہی تو جلد ہی ملک بھر میں ضروری اشیاء کی قلت ہو جائے گی جس سے بحران اور مہنگائی جنم لے گی۔

انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان کی مشکلات کافی زیادہ ہیں ااور گزشتہ بارہ روز سے انکا مال پھنسا ہوا ہے اور اگر صورتحال کو بہتر نہ بنایا گیا تو گزشتہ کئی ماہ سے برآمدات میں ہونے والا اضافے کا سلسلہ رک سکتا ہے جس سے معاشی بحالی کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔

سب سے زیادہ نقصان ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے شعبے کو ہو گا جو مغربی ممالک میں وائرس کے بعد لگنے والی پابندیوں کے نرم ہونے کے بعد کاروبار میں بہتری کی توقع کر رہے تھے۔

کراچی کے حالات کی وجہ سے درآمد و برآمدکنندگان کی کاروباری لاگت بھی بڑھ گئی ہے جو پہلے ہی کمزور انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کی وجہ سے زیادہ ہے۔بارش حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے معاشی بحالی کیلئے کئے گئے اقدامات کو تلپٹ کر رہی ہے جبکہ زرعی شعبے کو بھی زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے الگ مسائل جنم لینگے۔

Related Posts