اسلام آباد:صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں عاشورہ محرم کے پرامن جلوس پر بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے اندھے استعمال، آنسو گیس اور پیلٹ گنوں سے پچاس سے زیادہ عزا داروں کو زخمی اور سینکڑوں شہریوں کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔
تحریک کشمیر برطانیہ اور سکاٹش ہیومن رائٹس فورم کے زیر اہتمام”نئے چیلنجز اور نئی امیدوں“ کے عنوان سے مشترکہ ویب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت نے ایک جانب بھارتی ہندوؤں کو امرناتھ یاترا کی کھلی اجازت دے رکھی ہے جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کو عزاداری سے روک دیا گیا ہے جو اُن کی صدیوں پرانی مذہبی روایت ہے۔
صدر سردار مسعود خان نے سکاٹش ہیومن رائٹس فورم کا بطور خاص شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سکاٹ لینڈ سرزمین پر اس کانفرنس کے انعقاد سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی تحریک کے لئے ایک نیا دروازہ کھلا ہے۔
انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے حمایت حاصل کرنے کے لئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی کی طرف مسلسل ویب کانفرنسز کرانے، نمایاں اراکین پارلیمنٹ سے روابط استوار کرنے، عالمی امور کے ماہرین، رائے سازوں اور ذرائع ابلاغ کو موبلائز کرنے پر اُن کا شکریہ بھی ادا کیا۔
صدر آزادکشمیر کانفرنس کے شرکاء کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دن میں مقبوضہ کشمیر میں دس نوجوان کشمیریوں کو شہید کیا گیا جبکہ دس ہزار کشمیری نوجوان جنہیں بھارتی فوج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا وہ لاپتہ ہیں۔
خود بھارتی حکام نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس سال جنوری سے اب تک ایک سو اسی نام نہاد جنگجوؤں کو مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج ہر روز بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر کے اور انہیں دہشت گرد قرار دے کر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارتی حکومت کے اعداد وشمار کے برعکس اصل صورتحال کہیں زیادہ گھمبیر اور خوفناک ہے۔
صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس سال اپریل سے لے کر اب تک بھارتی حکومت نے پانچ لاکھ سے زیادہ بھارتی ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں لاکر آباد کیا ہے اور اُن کا ہدف ہے کہ اگلے دو تین سال میں بیس لاکھ ہندوؤں کو متنازعہ علاقے میں آباد کیا جائے گا۔
بھارتی حکومت کی آبادکاری اور نو آبادیاتی پالیسی کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے انسان اس صدی میں بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں چونکہ مقبوضہ جموں وکشمیر ہر اعتبار سے اس وقت بھارت کی کالونی بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیاتو نہ صرف بھارت اور پاکستان جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہو سکتے ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے خطے کے امن وسلامتی کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔