عالمی برادری کے دعوے سیلاب میں بہہ گئے؛ جنیوا ڈونرز کانفرنس میں مالی معاونت کے وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان ایک بار پھر شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہے جبکہ 2022 کے ہولناک سیلاب کے زخم ابھی بھرے نہیں۔ بین الاقوامی وعدوں اور مالی امداد کے دعووں کے باوجود ملک کو تاحال پوری امداد نہیں مل سکی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق 2023 میں جنیوا میں منعقدہ ڈونرز کانفرنس کے دوران پاکستان کے لیے 11 ارب ڈالر سے زائد کی مالی معاونت کے وعدے کیے گئے تھے لیکن اب تک صرف 4 ارب 69 کروڑ ڈالر ہی موصول ہو سکے ہیں۔

ان رقوم میں سے تقریباً 2 ارب 75 کروڑ ڈالر منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے دیئے گئے جبکہ 1 ارب 93 کروڑ ڈالر اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے فراہم کیے گئے۔ موجودہ مالی سال میں جنیوا ڈونر پلیج کے تحت مزید 1 ارب 26 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کا ہدف رکھا گیا ہے جن میں 76 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم پراجیکٹ فنانسنگ کے لیے مختص کی گئی ہے۔

ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سیلاب سے براہ راست متاثرہ افراد کی فوری بحالی کیلئے مختص 54 کروڑ ڈالر کی گرانٹس میں سے پاکستان کو صرف 21 لاکھ ڈالر کی امداد حاصل ہوئی ہے۔

دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ باقی مالی معاونت مختلف باہمی و کثیرالملکی معاہدوں کے تحت طویل المدتی اور مختلف شرح سود پر دستیاب ہو گی جو امداد کی فوری فراہمی کے بجائے مرحلہ وار اور شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔

2025 کے سیلاب کی موجودہ صورتحال نے ملک کو ایک بار پھر عالمی برادری کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ 2022 کی تباہ کاریوں سے ابھرنے کی کوششیں ابھی تک مکمل نہیں ہو

Related Posts