محکمہ کالج کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی اساتذہ سے مبینہ بدتمیزی کا معاملہ گھمبیر ہو گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

محکمہ کالج کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی اساتذہ سے مبینہ بدتمیزی کا معاملہ گھمبیر ہو گیا
محکمہ کالج کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی اساتذہ سے مبینہ بدتمیزی کا معاملہ گھمبیر ہو گیا

کراچی: سندھ بھر کے کالجز میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنا نے کے لئے ایک بار پھر بایو میٹرک مشین کی تنصیب کرنے کے انوکھے فیصلے پر مسائل گھمبیر صورتحال اختیا رکر گئے ہیں، اعلیٰ افسران کی کرپشن کو روکنے کے لئے نوبت ہاتھا پائی، احتجاج اور تحقیقاتی اداروں سے رجوع کرنے تک پہنچ گئے ہے،محکمہ کالج ایجوکیشن نے مبینہ طور پر کرپٹ افسران کو نوازنے کے لئے ایک بار متنازعہ افسر کے دوست پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیٹی بنا کر معاملے نمٹانے کی کوشش کی ہے۔

چند روز قبل ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ کراچی میں تعیّنات اسسٹنٹ ڈائریکٹر / لیکچرار راشد کھوسو نے بایومیٹرک ڈیوائس کی تنصیب کے سلسلے میں، ضلع خیرپورکے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج پیر جو گوٹھ اور گورنمنٹ گرلز کالج پیر جو گوٹھ کا دورہ کیا، جہاں مبیّنہ طور پرراشد کھوسو کادونوں کالجز کے پرنسپلز اور اساتذہ سے کوئی تنازعہ کھڑا ہوگیا، اساتذہ کا موقف ہے کہ راشد کھوسو نے اس موقع پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اساتذہ کرام سے بدتمیزی اور بدزبانی کی۔

جس کے بعد سندھ بھر کے کالج اساتذہ نے صوبے بھر میں، راشد کھوسو کے مبیّنہ رویّے اور اساتذہ کرام سے سلوک کے خلاف ”یوم ِ سیاہ“منایا، جس کے بعد محکمہ کالجز سندھ کی جانب سے اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے گزشتہ روز ایک رکنی انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر راشد کھوسو کے دوست محکمہ تعلیم کالجز میں تعیّنات ایڈیشنل سیکریٹری (اے اینڈ ڈی) غلام مرتضٰی شیخ کو انکوائری کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے انکوائری کمیٹی گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج پیر جو گوٹھ اور گورنمنٹ گرلز کالج پیر جو گوٹھ، ضلع خیرپور میں رونما ہونے والے ناخوش گوارواقعات کی تحقیقات کر کے10 یوم میں رپورٹ سیکرٹری، محکمہ تعلیم کالجز کو پیش کرے گی۔

دوسری جانب محکمہ تعلیم کالجز نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر/لیکچرار راشد کھوسو کے رویّے، کردار اور طرز ِ عمل کی انکوائری کے بجائے شکایت کنندہ پرنسپلز کو ہی ”ایکسپلینیشن لیٹرز“ جاری کردئیے ہیں جس کے بعد ایک رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر کے راشد کھوسو کو بچایا جائے گا، جس کے خلاف سندھ بھر کے کالج اساتذہ کی تنظیم سندھ پروفیسرزاینڈ لیکچررزایسوسی ایشن(سپلا)کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور اس معاملے کو عدالت،اینٹی کرپشن، نیب اور ایف آئی اے لے جانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سندھ پروفیسرزاینڈ لیکچررزایسوسی ایشن(سپلا)رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی صورتحال روز بروز دگر گوں ہوتی جارہی ہے، اساتذہ کی توہین کرنے والوں کو محکمہ کالج ایجوکیشن میں نہ صرف اعلیٰ مقام سے نوازا جارہا ہے بلکہ اس کو کرپشن کا کھلا لائسنس بھی دے دیا جاتا ہے اوراس کواس بات کی بھی اجازت دی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پرسرعام اساتذہ کی کردارکشی کریں، اس عمل کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

سپلا کے رہنماؤں نے اس امرپرحیرت اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ گرلزوبوائزکالجزپیرجوگوٹھ واقعہ میں توہین بھی اساتذہ کی ہوئی اوراب انکوائری بھی اساتذہ کے خلاف کرنے کا لیٹرجاری کردیا گیا ہے جس میں سکھرریجن کے 4 اساتذہ کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ جس شخص نے خواتین ومرد اساتذہ کے ساتھ بد سلوکی اورتوہین آمیزرویہ رکھا اس کو کلین چٹ دے دی گئی ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری جن پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے یہ توواقعہ کے مرکزی کردار اسٹنٹ ڈائریکٹر راشدکھوسو کے قریبی دوست ہیں،یہ کہاں کا انصاف ہے کہ واقعہ میں ملوث اہم اصل محرک کو کلین چٹ دے کر صرف کالج اساتذہ کو کٹھڑے میں کھڑا کیا جارہے ہے۔لہٰذا سپلا اس قسم کی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدار کمیٹی کا مطالبہ کرتی ہے جس میں اسٹیک ہولڈرس کی نمائندگی بھی شامل ہو۔

سپلا کے رہنماؤں نے آخر میں یہ بھی کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان اساتذہ کو کس جرم میں نشانہ بنایا جارہا ہے، ہم بائیو میٹرک کرپشن کو بے نقاب کرکے ہی دم لیں گے اور اس کرپشن میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں ضرور لائیں گے،اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے، اگر یہ کرپشن کا سلسلہ نہ رکا تو پھر نیب، ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن سے اس سلسلے میں روجوع کیا جائے گا۔

سپلا رہنماؤں میں  پروفیسر شاہجہاں پنھور، پروفیسر منور عباس، پروفیسر کریم ناریجو، پروفیسر مشتاق پھلپوٹہ، پروفیسر الطاف کھوڑو، پروفیسر ساجد جعفری، پروفیسر مصطفیٰ کاکا، پروفیسر محمد حنیف درانی، پروفیسر عبد المنان بروہی، پروفیسر عامرالحق، پروفیسر لعل بخش کلھوڑو، پروفیسر غفران بلوچ، پروفیسر یوسف قائمخانی، پروفیسر نازیہ سولنگی، پروفیسر لیاقت بھٹو، پروفیسر سعید فاطمہ شامل تھے۔

مزید پڑھیں: محکمہ کالج کا 2 ریٹائرڈڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن کو ترقی دیکر چیف ڈائریکٹر اور پرنسپل تعینات کرنے کا انوکھا کارنامہ

ان کے علاوہ پروفیسرغازی عبدالجبار جونیجو، پروفیسر آصف منیر، پروفیسر عدیل معراج، پروفیسرسعید ابڑو، پروفیسرحسن میر بحر، پروفیسر عبدالمجید ٹانوری، پروفیسر عزیز میمن، پروفیسر عبدالرشید ٹالانی، پروفیسر نصراللہ کمبھر، پروفیسر سیدعامر علی، پروفیسر سید منور علی شاہ، پروفیسر واجد علی چانڈیو، پروفیسر رسول بخش قاضی، پروفیسر نزاکت علی، پروفیسر نصراللہ بھٹی، پروفیسر شبانہ افضل و دیگر شامل تھے۔

Related Posts