بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع بلاسپور میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جب مسلسل بارش کے باعث ایک پہاڑی سے مٹی کا تودہ اچانک کھسک کر ایک سیاحوں کی بس پر آ گرا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
سرکاری حکام کے مطابق حادثہ بلو گھاٹ کے علاقے میں بھلو پل کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پہاڑ اچانک تیزی سے ہلا اور نیچے سے گزرنے والی بس پر آگرا گرا جس سے بس ملبے کے نیچے دب گئی۔ بس میں اس وقت تقریباً 35 سے 40 مسافر سوار تھے جن میں سے متعدد کو زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
#WATCH | Himachal Pradesh: 15 people have lost their lives in a private bus accident in Bilaspur. The injured have been admitted to AIIMS Bilaspur.
(Visuals from outside the hospital) pic.twitter.com/amJwymIqGf
— ANI (@ANI) October 7, 2025
حادثے میں ڈرائیور اور کنڈکٹر سمیت 18 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق بدقمست بس ہریانہ کے شہر روہتک سے سیاحوں کو لے کر ہماچل کے گھومر ون جا رہی تھی۔حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

حادثے پر ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، بھارتی صدر دروپدی مرمو، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے رہنما جے پی نڈا نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس پچاس ہزار روپے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سکھو نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ وہ مسلسل مقامی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور ریسکیو آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








