کراچی: گورنمنٹ کالج برائے خواتین، 11ایف نیو کراچی کی ریٹائر ہونیوالی پرنسپل گریڈ 19کی ایسوسی ایٹ پروفیسر شبانہ ناز، گریڈ 19کے جونیئر افسر ڈائریکٹر جنرل کالجز راشداحمد مہر اور ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی حافظ عبدالباری اندھنڑ کی غفلت سے 193طالبات کے انرولمنٹ برائے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام(ADA)پارٹ اول کی فیس اور فارم جمع نہیں ہو سکے ہیں۔
7فروری کو گورنمنٹ کالج برائے خواتین، الیون ایف نیو کراچی گریڈ 19کی ایسوسی ایٹ پروفیسر پرنسپل شبانہ ناز کے ریٹائرڈ ہونے سے قبل کالج میں 100سے زائد طالبات کے فارم اور فیس جمع ہو چکی تھی جس کا پے آرڈر پرنسپل بحیثیت ڈی ڈی او بنا کر نہیں گئی ہیں جبکہ طالبات کی جانب سے فیس کالج کے اکاؤنٹ میں جمع ہے جس کا پے آرڈر جامعہ کے اکاؤنٹ میں جمع کرانیکی دوسری بار 1000روپے لیٹ فیس کے ساتھ بڑھائی گئی تاریخ 17فروری ہے۔
جامعہ کراچی کی جانب ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کی 2100روپے فیس مقرر کرائی گئی تھی جس کے باوجود کالج کی جانب سے193 طالبات کی فیس بروقت جمع نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے طالبات اور والدین پر ایک لاکھ 93ہزار روپے کا اضافی بوجھ پڑگیا ہے تاہم اب ریجنل ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل کی غفلت کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ17فروری کے بعد 2ہزار فی طالبہ لیٹ فیس یعنی 3لاکھ 86ہزار روپے جمع کرانا ہو گی۔

گورنمنٹ کالج برائے خواتین، الیون ایف نیو کراچی گریڈ 19کی ایسوسی ایٹ پروفیسر پرنسپل شبانہ ناز کے ریٹائر ہونے کے بعد کسی کو چارج دینے کے بجائے گمراہ کن معلومات ریجنل ڈائریکٹر آفس کو ارسال کر گئی ہیں جبکہ گریڈ 19کی ایسوسی ایٹ پروفسیر کو چارج نہ دینے کی وجہ سے کالج میں طالبات کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،چارج نہ ہونے کی وجہ سے کالج کا بینک اکاؤنٹ بغیر پرنسپل /ڈی ڈی او کے کوئی بھی استعمال نہیں کرسکتا۔

مذکورہ کالج میں ڈی ڈی او نہ ہونے کی وجہ سے جامعہ کراچی کے کنٹرولر آف ایگزامینیشن کے نام پے آرڈر بنایا جاسکا نہ ہی جانے سے قبل پرنسپل نے اہم ترین فریضہ انجام دیا جس کام کی ان کو تنخواہ دی جاتی رہی ہے جبکہ کالج میں ان کو تحفے تحائف دیکر کالج سے فیئروِل دیکر رخصت کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی حافظ عبدالباری اندھنڑ اس معاملے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے کالج میں طالبات کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق گورنمنٹ گرلز کالج بلاک این کراچی میں اس وقت سنیارٹی میں پہلے نمبر پرایسوسی ایٹ پروفیسر شہلا یوسف،دوسرے نمبر پر اسسٹنٹ پروفیسرعامرہ احمد، تیسرے نمبر پر اسسٹنٹ پروفیسر مشرف انیس، چوتھے نمبر اسسٹنٹ پروفیسرعائشہ اعوان اور پانچویں نمبرپر اسسٹنٹ پروفیسر قدسیہ فیصل ہیں جبکہ کالج کی سابق پرنسپل نے ریٹائرمنٹ سے قبل ریجنل ڈائریکٹر کالجز کے نام کالج کے تین سینئر اساتذہ کے نام بھیجے، جن میں پہلے اور دوسرے نمبر کے سینئرز کے بارے میں منفی ریمارکس لکھ کر تیسرے نمبر اور 5ویں نمبر پر آنے والی اسسٹنٹ پروفیسر قدسیہ فیصل کا نام لکھ کر مثبت رپورٹ لکھ کر سفارش کردی تھی،واضح رہے کہ ریٹائر ہونے والی خاتون خود پرنسپل تعیناتی سے قبل کوئی تجربہ نہیں رکھتی تھیں۔
مزید پڑھیں: محکمہ کالج ایجوکیشن نے گرلز کالج گراؤنڈ سے قبضہ چھڑوانے کیلئے کمشنر کراچی کو خط لکھ دیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








