پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کا شکارشہریوں کی تعداد 46فیصد سے زائد ہوگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کا شکارشہریوں کی تعداد 46فیصد سے زائد ہوگئی
پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کا شکارشہریوں کی تعداد 46فیصد سے زائد ہوگئی

کراچی: ملک میں ہائی بلڈ پریشرکے مریضوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، سال 2020 کے غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان میں 46 فیصد سے زائد شہری ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر خون کا دباؤ ہوتا ہے جو ہماری شریانوں کو سکیڑتا ہے۔

پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ نامی طبی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہر 20میں سے 9 سے بھی زائد پاکستانیوں کو ہائی بلڈ پریشر کی طبی حالت کا سامنا ہے اور ایسے شہریوں میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک خون کے دباؤ کا بہت زیادہ رہنا انسان کو دل کی مختلف بیماریوں اور گردوں کے امراض کا شکار کر دینے کے علاوہ ہیمریج اور فالج تک جیسے طبی نتائج کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ میں سرجن عدنان طاہر نے بلڈ پریشر کے مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی بلڈ پریشر کی دو اقسام ہوتی ہیں، ابتدائی ہائپر ٹینشن اور ثانوی ہائپر ٹینشن۔ ان کے مطابق ابتدائی ہائپر ٹینشن ہی وہ طبی شکایت ہے۔

جس کا 90 سے 95 فیصد تک عوام کو سامنا ہوتا ہے۔جبکہ پانچ سے 10 فیصد تک واقعات میں ہائپر ٹینشن دیگر امراض، خاص کر گردے کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے لاحق ہو، تو اسے ثانوی ہائپر ٹینشن کہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پاکستان میں دوران حمل خواتین کی اموات میں سے 20 فیصد سے زائد کیسز میں بنیادی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہی ہوتا ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق بلڈ پریشر سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی اور الکوحل سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

کیونکہ یہ دونوں کئی طرح کے طبی مسائل کا سبب بنتے ہیں، اس کے علاوہ سادہ خوراک، ورزش اور باقاعدگی سے واک کرنا ایسی صحت بخش عادات ہیں، جو بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔صحت مند زندگی کے لیے روزانہ 30 سے 60 منٹ تک ورزش ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا کے 1ہزار 490 نئے کیسز رپورٹ، 27مزید شہری جاں بحق

جسمانی سرگرمی نہ صرف بلڈ پریشر میں کمی لاتی ہے بلکہ اسے معمول بنانا مزاج، جسمانی مضبوطی اور توازن کے لیے بھی مفید ہے، اس سے ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

Related Posts