کراچی: پاکستان کپ ویمنز ون ڈے ٹورنامنٹ کا آغاز جمعرات سے ہوگا۔یہ قومی خواتین کرکٹ سیزن برائے 22-2021 کا پہلا ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں کُل چار ٹیمیں شرکت کریں گی۔
چودہ میچز پر مشتمل اس ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائے گی۔ ٹورنامنٹ کے تمام میچز نیشنل اسٹیڈیم اور اوول اکیڈمی گراؤنڈ کراچی میں کھیلے جائیں گے۔
اسٹرائیکرز کی ٹیم پہلی مرتبہ قومی خواتین کرکٹ سیزن میں شرکت کرے گی۔یہ ٹیم پاکستان کپ ویمنز ون ڈے ٹورنامنٹ کے بعد نیشنل ویمنز ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں بھی شرکت کرے گی۔
ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ شرکت کرنے والی ٹیم، اسٹرائیکرز کی قیادت کائنات امتیاز کریں گی۔ بلاسٹرز کی قیادت سدرہ نواز کے سپرد کی گئی ہےجبکہ جویریہ خان چیلنجرز کی کپتانی کریں گی اورڈائنامائٹس کی قیادت منیبہ علی صدیقی کے سپرد کی گئی ہے۔
ٹورنامنٹ کے ہر میچ کی بہتری کھلاڑی کو 20 ہزار روپے بطور انعام دیا جائے گا جبکہ رنرزاپ ٹیم کو پانچ لاکھ روپے تقسیم کیے جائیں گے۔
خواتین کرکٹ کے فروغ اور کھیل کی پذیرائی کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹورنامنٹ کے میچز کو اپنے یوٹیوب چینل پر لائیو اسٹریم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایونٹ کا فائنل21 ستمبر کو کھیلا جائے گا، یہ میچ ڈے اینڈ نائٹ ہوگا۔
جویریہ خان، چیلنجرز:
جویریہ خان کا کہنا ہے کہ ایونٹ کے آغاز میں کچھ وقت ہی باقی ہے تاہم ہمارا ہدف جلد از جلد خود کو تیار کرنا اور مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنا ہے. اسکواڈ متوازی ہے اور یہ ٹیم ٹائٹل جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے. انفرادی طور پر لمبی اننگز کھیل کر بیٹنگ میں اپنا اعتماد واپس حاصل کرنا چاہتی ہیں.
سدرہ نواز، بلاسٹرز:
سدرہ نواز کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم بہت اچھی ہے اور وہ ٹورنامنٹ کے آغاز کی منتظر ہیں. ان کا ہدف ٹورنامنٹ جیتنا اور بلاسٹرز کو چیمپین بنوانا ہے. چوتھی ٹیم کے اضافے سے ایونٹ میں مقابلہ جاتی کرکٹ میں اضافہ ہوگا.
منیبہ علی صدیقی، ڈائنامائٹس:
منیبہ علی صدیقی کا کہنا ہے کہ ہر ٹیم کو سات میچز کھیلنے ہیں، جس سے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملے گا. ہمارا ہدف جلد از جلد مومنٹم حاصل کرنا ہوگا تاکہ ٹورنامنٹ جیت سکیں.
کائنات امتیاز، اسٹرائکیرز:
کائنات امتیاز کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ ویمنز ٹورنامنٹ میں چوتھی ٹیم شرکت کررہی ہے. ایک ٹیم کے اضافے سے خواتین کرکٹرز کی حوصلہ افزائی ہوگی. اسٹرائیکرز کی کپتان کی حیثیت سے وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی منتظر ہیں.
اسکواڈز:
بلاسٹرز: سدرہ نواز (کپتان اور وکٹ کیپر) ، عائشہ جاوید ، اریجہ حسیب ، بی بی ناہیدہ ، فجر نوید ، فاطمہ ثناء خان ، گل فیروزہ ، مومنہ ریاست ، ندا راشد ، نورین یعقوب ، عمائمہ سہیل ، صائمہ ملک ، شوال ذوالفقار اور سیدہ عروب شاہ
اسپورٹ سٹاف: وقار اورکزئی (ہیڈ کوچ) ، عاقل خان (اسسٹنٹ کوچ) ، رابعہ صدیق (فزیوتھیراپسٹ) اور فزا عابد (منیجر)۔
چیلنجرز: جویریہ خان (کپتان) ، انوشہ ناصر ، ڈیانا بیگ ، دعا ماجد ، فریحہ محمود ، گل رخ ، ارم جاوید ، خدیجہ چشتی ، ناجیہ علوی (وکٹ کیپر)، نازش رفیق ، صباء نذیر ، سدرہ امین ، سیدہ معصومہ زہرہ فاطمہ اور وحیدہ اختر۔
اسپورٹ اسٹاف: وسیم یوسف زئی (ہیڈ کوچ) ، شاکر قیوم (اسسٹنٹ کوچ) ، انجلی (فزیوتھیراپسٹ) اور رابیل خالد حشمت (منیجر)۔