ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی میں چیئرلفٹ حادثے کو ایک سال کے قریب ہونے کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے اہل علاقہ کو محفوظ نقل و حمل اور آمد و رفت کی سہولت کی فراہمی کے وعدے پورے نہ ہوسکے، جس کے باعث علاقہ عوام سراپا احتجاج ہیں۔
چیئرلفٹ کا حادثہ گزشتہ سال اگست کے وسط میں پیش آیا تھا، جس میں اسکول جانے والے بچے چیئرلفٹ میں تکنیکی خرابی آنے کے باعث کئی گھنٹوں تک فضا میں معلق ہوکر رہ گئے تھے۔
اس واقعے نے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کرلی تھی اور چیئرلفٹ میں پھنسے بچوں کو ریسکیو کرنے میں تاخیر پر پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی تھی۔
حادثے کے بعد اس وقت کی نگران وفاقی حکومت نے جہاں اہل علاقہ کو سڑک، اسکول کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، وہاں صوبائی انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے میں موجود تمام چیئرلفٹس پر فوری پابندی عائد کردی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے قانون سازی کے بغیر کسی پرائیویٹ آپریٹر کو چیئر لفٹ چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود نہ وفاقی حکومت کی اعلان کردہ سہولتوں پر کوئی پیشرفت ہوسکی ہے اور نہ ہی صوبائی انتظامیہ نے چیئرلفٹس کے حوالے سے کوئی قانون سازی کرلی ہے، جس کے باعث علاقے کے ہزاروں خاندان دوہری مشکلات سے دوچار ہیں۔
اس حوالے سے تعمیر الائی موومنٹ کے سرپرست اور معروف دینی و سماجی رہنما مولانا ڈاکٹر قاسم محمود نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا علاقہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر علاقے میں سڑک کی تعمیر شروع کریں، مقامی پرائمری اسکول کو وعدے کے مطابق ہائر سیکنڈری کا درجہ دیا جائے، علاقے کے بنیادی مراکز صحت کو فعال کیا جائے اور پاشتو کو فوری طور پر پولیس چوکی دی جائے، جس کی اصولی منظوری ڈیڑھ سال پہلے ہی دی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے ایک طرف متبادل سہولتوں کا بھی کوئی بندوبست نہیں کیا اور دوسری طرف ایک سال ہونے کو ہے علاقے میں آمد ورفت کا واحد ذریعہ چیئرلفٹ بھی انتظامیہ کے نادر شاہی احکامات پر بند ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ اب سڑک بھی نہیں اور چیئرلفٹ بھی بند کردی گئیں ہیں تو اس صورتحال میں علاقے کے عوام کہاں جائیں؟ ان کا کہنا تھا کہ چیئرلفٹ بند ہونے کے باعث اسکول کے بچوں کو روزانہ چار گھنٹے پیدل آنا جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ انتظامیہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس معاملے کو ترجیحا دیکھ لے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








