کراچی:بینک دولت پاکستان نے بینکاری کے شعبے کے متعلق سال2020 کی پہلی ششماہی کی کارکردگی کا جائزہ جاری کر دیا ہے۔ جائزے میں جنوری تا جون2020(پہلی ششماہی سال)2020کی مدت کے لیے شعبہ بینکاری کی کارکردگی اور صحت کا جامع انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔
جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی دباو کے باوجود شعبہ بینکاری کے اثاثوں میں 2020 کی پہلی ششماہی کے دوران7.8فیصد کی معقول نمو دیکھی گئی۔ سرمایہ کاریوں میں تیزی سے اضافے کی فنڈنگ ڈپازٹس میں اضافے سے کی گئی جو نمو کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں وبا پھیلنے کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں تعطل کے باعث اقتصادی مشکلات کے سبب قرضوں میں معتدل کمی ہوئی۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے اعانتی اقدامات کے بغیر قرضوں میں کمی کی سطح اس سے کہیں زیادہ بلند ہو سکتی تھی۔
جائزے میں اجاگر کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پالیسی اقدامات سے سرمائے کے تحفظ، قرض دینے کی صلاحیت بڑھانے اور نقصان جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافے میں سہولت ملی۔ اس کے نتیجے میں خطرہ قرض میں کچھ اضافے کے باوجود شعبہ بینکاری کی نفع یابی بہتر ہوئی اور لچکداری میں اضافہ ہو گیا۔
غیر فعال قرضوں (این پی ایلز) کا حجم دسمبر 2019 کے اختتام پر 8.6 فیصد تھا، جو آخر جون 2020 میں بڑھ کر 9.7 تک پہنچ گیا۔ تاہم خالص غیرفعال قرض تا قرضہ تناسب، جو قرض کا خطرہ ماپنے کا بہتر ذریعہ ہے، 1.7 فیصد سے صرف تھوڑا سا بڑھ کر 1.9 فیصد ہوگیا۔
آمدنی میں نمایاں بہتری ہوئی کیونکہ منافع میں 52 فیصد سال بسال اضافہ ہوا۔ اس بہتری کے اسباب میں بلند سودی آمدنی، سودی خرچوں میں کمی اور غیرسودی آمدنی میں اضافہ شامل تھے۔
بہتر منافع کے ساتھ بینکاری شعبے کی لچکداری میں مزید پختگی آئی کیونکہ شرح کفایت سرمایہ (سی اے آر) کا حجم دسمبر 2019 کے 17.0 فیصد سے بڑھ کر جون 2020 میں 18.7 فیصد تک پہنچ گیا۔
جولائی تا اگست 2020 میں منعقدہ اسٹیٹ بینک کے نظامیاتی خطرے کے سروے کی چھٹی لہر کے نتائج بھی اس جائزے میں شامل ہیں، جو منڈی کے فریقوں کی آرا کے عکاس ہیں۔
سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الوقت اور آئندہ چھ ماہ تک سروے کے شرکا عالمی خطروں اور ملکی معیشت کے خطرات کو اہم سمجھتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کورونا وائرس کے اثرات کم کرنے لیے کیے گئے اقدامات کو متعلقہ فریقوں نے سراہا۔