افریقی ملک کے نائب صدر کا طیارہ تا حال لاپتا، تلاش جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عالمی میڈیا

افریقی ملک ملاوی کے نائب صدر اور نو دیگر افراد کو لے جانے والا طیارہ سوموار کی شام سے ریڈار سے غائب ہے، جس کے بعد خراب موسم میں جنگل میں طیارے کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

ملاوی کے صدر لازارس چکویرا نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ انہوں نے بہاماس جزیرے کا کا طے شدہ ورکنگ دورہ منسوخ کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلح افواج کو لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن کرنے کا حکم دیا ہے۔

صدر چکویرا نے مزید کہا کہ ان کے نائب اکاون سالہ ساؤلوس چلیما کو لے جانے والا طیارہ فوجی تھا۔ وہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 7:17 بجے دار الحکومت لیلونگوے سے صبح روانہ ہوا، لیکن 45 منٹ بعد مززو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طے شدہ وقت پرنہیں پہنچا۔ ملاوی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے طیارے کی تلاش میں مدد کے لیے پڑوسی ممالک اور سفارتی شراکت داروں سے رابطہ کیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی، برطانوی، نارویجن اور اسرائیلی حکومتوں نے تمام قسم کے تعاون کی پیشکش کی ہے جس میں خصوصی ٹیکنالوجی کے استعمال سے طیارے کو جلد تلاش کی ہماری صلاحیت میں اضافہ ہوگا تاہم منگل کی صبح تک 24 گھنٹے گزرجانے کے باوجود طیارے کا پتا نہیں چل سکا۔ لگتا ہے کہ وہ پہاڑی علاقے کے گھنے جنگلوں میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

ساؤلوس چلیما سے 2022 میں ان کے اختیارات چھین لیے گئے تھے جب ان پر رشوت ستانی کے ایک اسکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا جس میں ملاویائی نژاد برطانوی تاجر شامل تھے۔ بعد میں عدلیہ نے کئی سماعتوں کے بعد ان الزامات کو ختم کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ مئی کے وسط میں ایران میں صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کےدوران پہاڑی علاقے میں گرکر تباہ ہوگیا تھا۔ اس حادثے میں ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت سات دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی مارے گئے تھے۔

Related Posts