طلبہ انقلاب نے عدلیہ سے بھی حسینہ واجد کے سہولت کاروں کا صفایا کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو انڈین میڈیا

بنگلہ دیش کے طلبہ انقلاب نے ملکی عدلیہ سے چیف جسٹس سمیت حسینہ واجد کے تمام سہولت کار ججوں کا بھی صفایا کر دیا۔

حکومت سے نجات پانے کے بعد بنگلہ دیش میں احتجاج کا رخ شیخ حسینہ واجد کے حامیوں کی طرف ہوگیا۔ مظاہرین نے دعویٰ کیاکہ عدلیہ میں بھی شیخ حسینہ واجد کے حامی موجود ہیں۔

ہفتہ کے روز خبر پھیل گئی کہ بنگلہ دیش کے چیف جسٹس عبید عبید الحسن نے فل کورٹ اجلاس بلا لیا ہے اور عبوری حکومت کے حوالے سے کوئی ااقدام کرنے والے ہیں۔ اس پر ہزاروں افراد نے سپریم کورٹ کی عمارت کو گھیر لیا اور ججوں کے استعفے کا مطالبہ کرنے لگے، جس کے بعد چیف جسٹس مستعفی ہوگئے۔

تاہم چیف جسٹس کے استعفے کے بعد بھی انقلابی طلبہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا، انہوں نے اعلیٰ عدلیہ میں موجود شیخ حسینہ واجد کے حامی پانچ دیگر ججوں کو بھی عہدے چھوڑنے کا کہہ دیا۔ جس پر مجبورا باقی جج بھی عہدے چھوڑ کر گھر چلے گئے۔

چیف جسٹس عبیدالحسن نے صرف 10 ماہ پہلے ہی حلف اٹھایا تھا۔ جسٹس عبید الحسن ماضی میں اس ٹریبونل کا حصہ رہے ہیں جس نے جماعت اسلامی رہنماؤں کی پھانسی کا حکم سنایا تھا۔

چیف جسٹس کے استعفے کے بعد حسینہ واجد کے حامی سمجھے جانے والے سپریم کورٹ اپیلٹ ڈویژن کے مزید 5 ججز مستعفی ہوگئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مستعفی ہونے والوں میں جسٹس عنایت الرحیم، جسٹس ابوظفر صدیقی، جسٹس محمد جہانگیر حسین، جسٹس شاہی نور اسلام اور جسٹس کاشفہ حسین شامل ہیں۔

Related Posts