ڈرامے کا ایسا موڑ کہ سب دنگ رہ گئے؛ ‘میں منٹو نہیں ہوں’ نے ناظرین کو سحرزدہ کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اے آر وائے ڈیجیٹل)

اے آر وائی ڈیجیٹل کا مقبول ڈرامہ “میں منٹو نہیں ہوں” اپنی دلکش کہانی اور شاندار اداکاری کے باعث ناظرین کو مسحور کر رہا ہے۔ ہمایوں سعید، سجل علی، صنم سعید اور اعزاز سمیع خان سمیت دیگر اداکاروں کی پرفارمنس نے اس ڈرامے کو گھر گھر مشہور کر دیا ہے۔

یہ ڈرامہ ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کرتا ہے جو منٹو سے متاثر ہو کر اپنی سچائی کو قلمبند کرتا ہے، جبکہ ایک خاتون اپنی خاموش طاقت سے سب کو متاثر کرتی ہے۔

ہمایوں سعید نے منٹو کے کردار کو بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے، جو ایک خاموش لیکن شدید مزاج پروفیسر ہے۔ وہ سماجی اصولوں پر سوال اٹھاتا ہے اور نڈر ایمانداری سے لکھتا ہے۔ دوسری جانب، سجل علی نے مہمل کے کردار کو زندہ کیا ہے، جو سراج کی اکلوتی بیٹی اور منٹو کی طالبہ ہے۔ وہ روایات اور جدید خیالات کے درمیان توازن رکھتی ہے اور اپنی خاموشی سے بھی سنی جاتی ہے۔

قسط نمبر 7 میں کہانی نے کیا موڑ اختیار کیا؟

تازہ ترین قسط میں مہمل اپنی ٹیچر کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی خواہش ظاہر کرتی ہے۔ وہ بار بار اپنی ماں سے اجازت مانگتی ہے، لیکن ہر بار انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آخر کار، وہ اپنی پسندیدہ پھپھو (سرّیا) کی تجویز پر اپنے والد سراج امرتسری (آصف رضا میر) سے اجازت مانگتی ہے۔ یہ منظر باپ بیٹی کے رشتے کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے، جو ناظرین کے دلوں کو چھو گیا۔ سوشل میڈیا پر مداح اس جذباتی لمحے کی خوب تعریفیں کر رہے ہیں۔

ڈرامے کی پیچیدہ رشتوں کی عکاسی اور جذباتی گہرائی نے ناظرین کو اپنی طرف کھینچ رکھا ہے۔ سجل علی اور آصف رضا میر کے درمیان باپ بیٹی کے تعلق نے خاص طور پر سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی حاصل کی۔ شائقین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ سماجی مسائل پر سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔

“میں منٹو نہیں ہوں” اپنی منفرد کہانی اور مضبوط کرداروں کے ساتھ ہر ہفتے ناظرین کے لیے ایک نیا تجربہ لے کر آتا ہے۔ اگلی قسط کا انتظار مداحوں میں بے چینی بڑھا رہا ہے۔

Related Posts