پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل اسد عمرنے ٹوئٹر اسپیس پر عوام سے گفتگو میں کہا ہے کہ غلامی نامنظورمارچ کی مکمل حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد عمرنے کہا کہ چیئرمین عمران خان اس کی منظوری دے چکے ہیں جب وہ مناسب سمجھیں گے اس کا اعلان کردیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان تحریک انصاف شہروں تک محدود تھی لیکن 126 دن کے دھرنے سے ہمارا پیغام دیہات تک پہنچا، اسلام آباد میں لوگ بہت بڑی تعداد میں آئیں گے۔
غیر ملکی مراسلے کے بارے میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پہلے اجلاس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اورمیں موجود تھا، مراسلے کو دیکھا تولگا کہ یہ دھماکہ خیز ہے، مراسلے میں تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک آئے گی، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس مداخلت کی تصدیق ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی زیرِصدارت ہونے والے دوسرے اجلاس میں پہلے اجلاس کے اعلامیے کی توثیق ہوئی، مراسلہ معمولی خط نہیں بلکہ ملک کی اندرونی سیاست میں کُھلی مداخلت تھی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان سے پہلے پاکستان کی سیاست تقسیم کا شکارتھی، عمران خان نے پاکستان کومتحد کیا۔ خیبرپختونخوا، گلگت، پنجاب، وفاق اورکشمیرسب جگہ تحریک انصاف کی حکومت بنی۔
انہوں نے کہا کہ اب ہر زبان، مسلک اورعلاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ متفق ہیں کہ عمران خان پاکستان کا لیڈر ہے، عمران خان کی سوچ وسیاست کسی ایک خاص علاقے تک محدود نہیں، چیئرمین نے پاکستان کوسیاسی طورپرمتحد کردیا۔
اسد عمر نے کہا کہ ملکی عوام کی اکثریت کے ذہن میں نظام کی تبدیلی کا سوال ہے، پچھلا نظام طاقت ور کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، عام آدمی کو اس نظام سے انصاف ملتا نظر نہیں آتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم سے بہت سے مسائل نے جنم لیا، اس کے اچھے پہلوبھی ہیں مگر یکساں نظام میں مشکلات آئیں، نظام کی تبدیلی کے لیے دوتہائی اکثریت درکار ہے اوراب عمران خان دوتہائی اکثریت سے واپس آرہے ہیں، اس باروہ نظام کی تبدیلی کا ایجنڈا آگے بڑھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران نیازی کی انا، جھوٹ اور تکبر پر پاکستان قربان نہیں کرسکتے۔وزیراعظم
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








