یہ پی ٹی آئی کے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے مظاہرین ہیں! سینئر صحافی سمیع ابراہیم جعلی تصویر شیئر کرکے پھنس گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پنجاب دورے کے موقع پر سینئر صحافی سمیع ابراہیم نے بنگلہ دیش کے ایک احتجاجی مظاہرے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے تاثر دیا کہ یہ لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنان ہے جو سہیل آفریدی کے لیے باہر نکلے ہیں۔

سمیع ابراہیم نے اپنی اس ٹوئٹ میں لکھا کہ لاہور اور پنجاب کو ایک قابل اعتماد رہنما کی ضرورت ہے اور وقت آ گیا ہے کہ روپوش رہنماؤں کی جگہ تبدیلی آئے۔

یہ ٹوئٹ 28 دسمبر 2025 کو ان کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل (ایکس) پر شیئر کی گئی تھی جس پر معروف اینکر پرسن اقرار الحسن نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ تصویر دراصل بنگلہ دیش کے مظاہرے کی ہے۔ سمیع ابراہیم نے فوری طور پر یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی لیکن دو روز بعد انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی غلطی تسلیم کی اور عوام سے معذرت بھی کی۔

معذرت کے بعد بھی سوشل میڈیا صارفین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے جعلی تصاویر کو واٹس ایپ گروپس سے اٹھا کر وائرل کرنے کی ایک حکمت عملی اپنائی اور اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو معذرت کر لی۔

ٹوئٹر صارفہ تحریم نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ آپ نے ایسی تصویر پوسٹ کی لیکن ڈنڈے کے خوف سے پہلی بار معافی مانگی ہے۔

تحریک انصاف کے ایک کارکن نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کو پہلے تصدیق کرنی چاہیے کہ مواد اصلی اور حقیقت پر مبنی ہے تاکہ عوام کا اعتماد قائم رہے اور سچی معلومات پر شک پیدا نہ ہو۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تصدیق کے بغیر معلومات شیئر کرنے کے خطرات کی ایک واضح مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

Related Posts