خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پنجاب دورے کے موقع پر سینئر صحافی سمیع ابراہیم نے بنگلہ دیش کے ایک احتجاجی مظاہرے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے تاثر دیا کہ یہ لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنان ہے جو سہیل آفریدی کے لیے باہر نکلے ہیں۔
غلطی سے بنگلہ دیش میں مظاہرے کی تصویر لگ گئی ۔۔اپنی غلطی پر معزرت خواہ ھوں 🙏🙏 pic.twitter.com/V6MkW4f4Y5
— Sami Abraham (@samiabrahim) December 30, 2025
سمیع ابراہیم نے اپنی اس ٹوئٹ میں لکھا کہ لاہور اور پنجاب کو ایک قابل اعتماد رہنما کی ضرورت ہے اور وقت آ گیا ہے کہ روپوش رہنماؤں کی جگہ تبدیلی آئے۔
یہ ٹوئٹ 28 دسمبر 2025 کو ان کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل (ایکس) پر شیئر کی گئی تھی جس پر معروف اینکر پرسن اقرار الحسن نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ تصویر دراصل بنگلہ دیش کے مظاہرے کی ہے۔ سمیع ابراہیم نے فوری طور پر یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی لیکن دو روز بعد انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی غلطی تسلیم کی اور عوام سے معذرت بھی کی۔
یہ بہت بڑا فراڈ ہے، فیک چیزیں واٹس ایپ گروپ سے اٹھا وائرل کرنے کےلئے ایک ٹریک ہے، کہ پبلک اپ کی پوسٹ کردہ چیزیں وائرل ہو ۔ پھر اگر بےشرمی ہائی درجے پر پہنچ جاتی ہے تو معذرت والا ٹویٹ
— AYAZ (@_SyedAyaz) December 30, 2025
معذرت کے بعد بھی سوشل میڈیا صارفین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے جعلی تصاویر کو واٹس ایپ گروپس سے اٹھا کر وائرل کرنے کی ایک حکمت عملی اپنائی اور اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو معذرت کر لی۔
ٹوئٹر صارفہ تحریم نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ آپ نے ایسی تصویر پوسٹ کی لیکن ڈنڈے کے خوف سے پہلی بار معافی مانگی ہے۔
کونسا پہلی بار پوسٹ کی ہے لیکن ڈنڈے کے ڈر سے معافی پہلی بار مانگی ہے
— Tehreem🇵🇰 (@tehree19) December 31, 2025
تحریک انصاف کے ایک کارکن نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کو پہلے تصدیق کرنی چاہیے کہ مواد اصلی اور حقیقت پر مبنی ہے تاکہ عوام کا اعتماد قائم رہے اور سچی معلومات پر شک پیدا نہ ہو۔
سمیع صاحب آپ تو ایک بڑے صحافی ہیں ہم جب کوئی اسی وڈیو دیکھتے ہیں تو پہلے تصدیق کرتے ہیں کہ یہ واقعی اصلی ہے حقیقی ہے آپ کیسے اتنی غلطی کر گئے ایسا نا کیا کریں پھر لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے لوگ سچی بات کو بھی جھوٹ سمجھنے لگتے ہیں اس لئے لازمی پہلے تصدیق کر لیا کریں
— ISHTIAQ AHMED (@itx_ishtiaq) December 30, 2025
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تصدیق کے بغیر معلومات شیئر کرنے کے خطرات کی ایک واضح مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








