چاند زمین سے ٹکرا سکتا ہے؟ ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ جانیں سائنسدانوں کی حیران کن وضاحت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کائنات کے شوقین اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کہیں ایک دن چاند زمین سے ٹکرا نہ جائے۔ نیوزی لینڈ اسپیس سینٹر کے ماہرین نے اس خیال کی سچائی جانچنے کے بعد واضح کر دیا ہے کہ یہ امکان تکنیکی طور پر ممکن تو ہے لیکن حقیقت میں انتہائی بعید اور تقریباً ناممکن ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسا حادثہ ہمارے یا آنے والی کئی نسلوں کے دوران کبھی نہیں ہوگا۔

چاند زمین کے گرد ایک مستحکم مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس کا ہر سال چند سینٹی میٹر کی رفتار سے دور جانا، زمین کے ساتھ کسی فوری ٹکراؤ کے خطرے کو ختم کرتا ہے۔

چاند کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات کیوں نہ ہونے کے برابر ہیں؟

چاند کا مدار قدرتی طور پر مستحکم ہے اور اسے بگڑنے کے لیے ایک بہت بڑا بیرونی جسم درکار ہوگا۔

نظریاتی طور پر اگر کوئی بہت بڑا ایسٹیرائیڈ یا کسی طرح کی بڑی کائناتی چیز زمین اور چاند کے نظام کے قریب آئے تو مدار متاثر ہو سکتا ہے، لیکن ہمارے سولر سسٹم میں موجود اجسام کی پوزیشن کی وجہ سے یہ انتہائی کم امکان ہے۔

اربوں سال بعد سولر سسٹم کے بیرونی حصے یا ہمارے نظام سے باہر کی کوئی چیز اس کے مدار کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن یہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک اور امکان یہ ہے کہ زمین اور چاند ٹائیڈلی لاک ہو جائیں یعنی ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ ایک ہی رخ دکھائیں لیکن یہ بھی اربوں سال بعد ہوگا، جب سورج ایک ریڈ جائنٹ بن کر پھیل چکا ہوگا اور زمین شاید رہنے کے قابل نہ رہے۔

اگر چاند زمین سے ٹکرا جائے تو کیا ہوگا؟

سائنسدانوں کے مطابق، زمین پر موجود ہر چیز تباہ ہو جائے گی۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کا واحد طریقہ زمین چھوڑنا ہوگا۔ چاند اور زمین دونوں تباہ ہو جائیں گے اور زمین کئی چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ سکتی ہے۔

اہم حقائق:

چاند زمین سے ہر سال چند سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے جو فوری ٹکراؤ کے خطرے کو ختم کرتا ہے۔

اس کا مستحکم مدار اور آہستہ آہستہ زمین سے دور ہونا اسے قدرتی طور پر ٹکرانے سے محفوظ رکھتا ہے۔

Related Posts