مدینہ منورہ کے قریب 17 نومبر کو پیش آنے والے افسوسناک بس حادثے میں شہید ہونے والے 45 زائرین کی جنت البقیع میں تدفین کردی گئی۔ اس موقع پر مرحومین کے اہل خانہ اور رشتہ دار بھی موجود تھے تاکہ وہ اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھ سکتے اور انہیں خراج عقیدت پیش کر سکیں۔
حادثہ اس وقت پیش آیا جب بھارتی شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے زائرین کی بس مدینہ کے قریب ایک خطرناک موڑ پر پھسل گئی اور حادثے کا شکار ہو گئی۔ بس میں سوار تمام مسافر زیارت کے لیے آئے تھے اور وہ کئی روز سے مدینہ میں تھے۔ حادثے کے نتیجے میں بس شدید نقصان کا شکار ہوئی اور فوری طور پر جائے حادثہ پر امدادی ٹیمیں پہنچیں مگر 45 زائرین جانبر نہ ہو سکے۔

شہداء کی تدفین کا عمل جنت البقیع میں مکمل کیا گیا جہاں مرحومین کے لیے خصوصی قبر کی تیاری کی گئی۔ تلنگانہ کے وزیر برائے اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اصل میں تدفین کا عمل حادثے کے دو دن بعد مکمل ہونا تھا لیکن سعودی قوانین اور مقامی انتظامات کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی۔

وزیر نے وضاحت کی کہ سعودی قوانین کے تحت ایسے حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کرنا قانونی مراحل مکمل کرنا اور متعلقہ کاغذی کارروائیوں کو حتمی شکل دینا ضروری ہوتا ہے اسی وجہ سے تدفین میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قانونی اور انتظامی ضرورت تھی تاکہ ہر مرحلے میں درست اور محفوظ طریقے سے کام کیا جا سکے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد تلنگانہ حکومت نے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور سعودی حکام کے تعاون سے لواحقین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ حکومت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ تمام متاثرہ خاندانوں کو مالی اور دیگر ضروری مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے پیاروں کے نقصان کا سامنا بہتر طریقے سے کر سکیں۔

یہ افسوسناک حادثہ حیدرآباد کے رہائشی ان زائرین کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا جو مدینہ کے قریب زیارت کے لیے آئے تھے۔ وزیر اظہر الدین نے کہا کہ حکومت اور سعودی حکام اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ لواحقین کو تمام قانونی اور انتظامی مسائل میں مدد فراہم کی جائے تاکہ تدفین اور دیگر مراسم بلا رکاوٹ مکمل ہو سکیں۔
وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت تلنگانہ تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کی رہنمائی اور مدد جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ہر مرحوم کے اہل خانہ کے لیے سہولیات فراہم کی جا سکیں اور وہ اپنے پیاروں کو عزت اور وقار کے ساتھ رخصت کر سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








