امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں اسرائیل اور یہودی لابی کے کم ہوتے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کانگریس میں یہودی مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں یہودیوں کے مذہبی تہوار حانوکا کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر 10، 12 یا 15 سال پہلے کی بات کی جائے تو واشنگٹن میں سب سے طاقتور لابی یہودی یا اسرائیل کی حامی لابی تھی مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب یہ اثر و رسوخ پہلے جیسا نہیں رہا اور یہودیوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کانگریس میں یہودی مخالف رجحانات بڑھ رہے ہیں اور بعض ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کانگریس رکن الہان عمر اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (اے او سی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ چند برس پہلے یہ تصور بھی ممکن نہیں تھا لیکن اب یہودی مخالف جذبات نہ صرف موجود ہیں بلکہ بڑھتے جا رہے ہیں۔انہوں نے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے آسٹریلیا میں حانوکا کے موقع پر ہونے والے حملے اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کا حوالہ دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں کی ویڈیوز خود دیکھی ہیں اور وہ مناظر ناقابلِ بیان حد تک خوفناک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بعض لوگ ان واقعات کو جھوٹ یا جعلی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔
صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حالات خراب ضرور ہیں لیکن جب تک وہ صدر ہیں امریکا میں یہودیوں یا اسرائیل کے خلاف نفرت کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔
تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون سازوں کے علاوہ میرئم ایڈلسن، مارک لیون، مورٹ کلین، میٹ بروکس، ایلون کار، لورا لومر، ایلن ڈرشووِٹز اور سابق مشرقِ وسطیٰ ایلچی جیسن گرین بلیٹ شامل تھے۔
مینورا روشن کرنے کی رسم میں صدر ٹرمپ کے ساتھ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک، وائٹ ہاؤس اسٹاف سیکریٹری ول شارف اور ربی یہودا کپلون شریک ہوئے۔ معروف ربی لیوی شیمٹوو نے صدر ٹرمپ کو اسرائیل اور یہودی عوام کا مضبوط ترین دوست قرار دیا۔
تقریب کے دوران حانوکا کے روایتی گیت پیش کیے گئے اور جاز موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا جبکہ بعد ازاں ایک علیحدہ استقبالیہ تقریب بھی منعقد ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہودی قوم کی استقامت، تاریخ میں درپیش مشکلات اور ان کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








