بھارت: منی پور سے ہزاروں افراد اسرائیل منتقل، آپریشن ونگز آف ڈان کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیل
(فوٹو: آن لائن)

اس وقت اسرائیل بیک وقت ایران کے ساتھ بھی کشیدگی اور لبنان کے ساتھ بھی جنگی نوعیت کی صورتحال میں گھرا ہوا ہے، تاہم اسی دوران وہ بھارت کے اندر ایک نسبتاً کم زیرِ بحث مگر اہم منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت بھارتی ریاست منی پور سے ہزاروں افراد اسرائیل منتقل ہوگئے۔ اس آپریشن کو ونگز آف ڈان کا نام دیا گیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں منی پور اور میزورم سے تعلق رکھنے والے ایک مخصوص گروہ ’بنی میناشی‘ کو اسرائیل منتقل کرنے سے متعلق ہے۔ اس عمل کو ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے اور یہ وہ منصوبہ ہے جو جنگ میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرتے ہوئے اسرائیل کو کمک فراہم کرے گا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آپریشن ونگز آف ڈان کے تحت حال ہی میں تقریباً 250 افراد کو اسرائیل لایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں کے دوران اس کمیونٹی کے ہزاروں افراد پہلے ہی اسرائیل منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ برسوں میں مزید منتقلی کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ موجود ہے۔

یہ مکمل عمل ایک سرکاری بحالی اور آبادکاری پروگرام کے تحت چل رہا ہے، جس میں اسرائیلی حکومت کے ساتھ ساتھ ’’یہودی ایجنسی برائے اسرائیل‘‘ اور ’’علیاہ‘‘ جیسی تنظیمیں بھی شریک ہیں۔ اس منصوبے کے تحت منی پور اور میزورم کے بنی میناشی افراد کو اسرائیل لا کر وہاں مستقل طور پر بسایا جا رہا ہے۔ اسے بعض حلقوں میں تقریباً 2700 سال بعد اپنے مبینہ تاریخی وطن کی طرف واپسی کے طور پر بھی بیان کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی منصوبہ بندی کے مطابق آنے والے چند برسوں میں اس برادری کے باقی افراد کو بھی منتقل کیا جائے گا۔ 2026 تک تقریباً 1200 مزید افراد کی منتقلی کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ 2030 تک اس پوری کمیونٹی کو مکمل طور پر اسرائیل میں آباد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ’’بنی میناشی‘‘ کا مطلب عبرانی زبان میں ’مناشی کی اولاد‘‘ لیا جاتا ہے، اور یہ لوگ خود کو یہودی نسل سے منسلک سمجھتے ہیں۔

تاریخی روایت کے مطابق قدیم اسرائیل 12 قبائل پر مشتمل تھا، جن میں سے ایک قبیلہ مناشی کہلاتا تھا، جو حضرت یوسفؑ کے بیٹے سے منسوب ہے۔ بعد ازاں 722 قبل مسیح میں اسوری حملے کے نتیجے میں شمالی سلطنت کے 10 قبائل منتشر ہو گئے اور وقت کے ساتھ ان کا سراغ کھو گیا، جنہیں بعد میں ’’گمشدہ 10 قبائل‘‘ کہا جانے لگا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ  بنی میناشی خود کو انہی میں سے ایک قبیلے کی باقیات قرار دیتے ہیں۔

سال 1990 کی دہائی سے اس گروہ کی اسرائیل منتقلی کا آغاز ہوا۔ اب تک 4000 سے زائد افراد وہاں جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 6000 افراد اب بھی منتقلی کے منتظر ہیں۔ اس عمل کے دوران انہیں مذہبی تبدیلی کے مراحل، عبرانی زبان کی تربیت، اور رہائش و روزگار کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اسرائیلی معاشرے میں بہتر طور پر ضم ہو سکیں۔

اگرچہ یہ برادری بھارت میں ایک یہودی طرزِ زندگی سے متاثر شناخت رکھتی ہے، لیکن اسرائیل پہنچنے پر انہیں باقاعدہ مذہبی تبدیلی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ اسرائیلی قانون ’’لاء آف ریٹرن‘‘ کے تحت انہیں خودکار شہریت نہیں دی جاتی۔ اسرائیل میں پہنچ کر یہ افراد عموماً تعمیراتی کام، ٹرک ڈرائیونگ یا دیگر محنت طلب شعبوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں، اور بعض کو حساس سرحدی علاقوں میں بھی آباد کیا جاتا ہے جہاں افرادی قوت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

Related Posts