ٹک ٹاک پر فحش مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ! پی ٹی اے سے جواب طلب

تازہ ترین

تازہ ترین

TikTok will shut down on Sunday

پشاور ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کی بڑے پیمانے پر تشہیر کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے پی ٹی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

دورانِ سماعت درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹک ٹاک پر اپ لوڈ اور شیئر کیا جانے والا غیر اخلاقی اور فحش مواد معاشرتی اقدار، عوامی اخلاقیات اور نوجوان نسل کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ایسے مواد کی آزادانہ دستیابی سے سماج میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے جس پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔

عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر توہین آمیز، غیر قانونی اور غیر اخلاقی مواد کی اپ لوڈنگ اور شیئرنگ روکنے کے لیے فائر وال کی تنصیب اور دیگر تکنیکی اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بشمول ٹک ٹاک، پر غیر قانونی مواد کو فلٹر یا بلاک کرنے کے لیے جدید سسٹمز انسٹال کرنے اور انہیں مسلسل اپ ڈیٹ کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ اقدامات پاکستان میں نافذ اخلاقیات، شائستگی اور امن و امان سے متعلق قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

عدالت نے پی ٹی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اٹھائے گئے قانونی اور تکنیکی اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کرے جن میں فائر وال ٹیکنالوجی، فلٹرنگ سسٹمز اور دیگر مؤثر طریقہ کار شامل ہوں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے مزید مہلت کی استدعا کی تاکہ دیگر متعلقہ اداروں کو بھی کیس میں فریق بنایا جا سکے اور سوشل میڈیا ریگولیشن سے متعلق ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 11 فروری 2026 تک ملتوی کر دی۔

Related Posts