ٹک ٹاک (TikTok) پاکستان میں اپنے صارفین کا تحفظ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے سیفٹی ایمبیسیڈرز پروگرا م کے ذریعے پہلی آف لائن ڈیجیٹل سیفٹی پر مرکوز ایکٹویشن متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔
سیفٹی ایمبیسیڈرز پروگرام ٹک ٹاک کے اس مقصد کاحصہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی متحرک اور منفرد کمیونیٹیز کو ایک محفوظ پلیٹ فارم فراہم کرسکے۔ ٹک ٹاک ایک اختراعی اور تخلیقی کمیونٹی کی اعانت جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوستانہ ماحول جو پلیٹ فارم کی مقبولیت کا باعث بناہے، صارف کے تحفظ اور امان پر توجہ دینے کے باعث ممکن ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پنجاب، کے پی میں الیکشن میں تاخیر، چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا
یہ مہم ٹک ٹاک کا ایک اور فعال قدم ہے جو عالمی تفریحی پلیٹ فارم کے صارفین کا،تمام صنعت میں، آن لائن اور آف لائن تحفظ کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ مہم تحفظ کے حوالے سے ٹک ٹاک کی اْن فعال کوششوں کے بارے میں صارفین کو آگاہی فراہم کرتی ہے جن میں غلط معلومات کا فروغ، سائبر بُلنگ، ہراساں کرنا اور آن لائن دھوکا بازی جیسے چیلنج شامل ہیں اور مستند مواد کی طاقت پر روشنی ڈالتی ہے۔
اس مہم کو پاکستان کے انتہائی مقبول مواد تخلیق کاروں کی مدد حاصل ہے جن میں تیمور صلاح الدین (جنھیں مورو بھی کہا جاتا ہے)، عرفان جونیجو، فائزہ سلیم، اَمت الحَسین باجوہ، حمزہ بھٹی، اَریکا حق، اَنوشے اشرف اور قاضی محمد اکبر جیسے ٹک ٹاک کے ایمبیسیڈرز شامل ہیں۔یہ سیفٹی ایمبیسیڈرز ڈیجیٹل سیفٹی کے بارے میں بات کریں گے اور اپنے سوشل میڈیا پروفائلز میں اپنے فالوورز سے انٹرنیٹ کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ٹک ٹاک کا مقصد یہ آگاہی پیدا کرنا ہے کہ استعمال کنندگان ٹک ٹاک میں دستیاب اِن-ایپ سیفٹی فیچرز سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ٹک ٹاک پر حفاظتی اپ ڈیٹس کے لیے ایک مرکز موجود ہے جسے سیفٹی سینٹر کہا جاتا ہے اور یہ تمام کارروائیوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے جو ٹک ٹک پلیٹ فارم پر مسلسل تحفظ اور امن کے لیے نافذ کی جاتی ہیں۔اس مرکز میں والدین اور سرپرستوں کے لیے بھی وسائل دستیاب ہیں۔
ٹک ٹاک اپنے تخلیق کاروں ا ور صارفین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے حفاظتی اقدمات کے بارے میں تازہ ترین معلوم کے حصول کی غرض سے سیفٹی سینٹر کا دورہ کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








