کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 4 میں ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے مبینہ طور پر ایک کمسن بچی کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے اُسے سڑک پر پھینک دیا جس سے بچی زخمی ہوگئی۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک اہلکار نے معمولی بات پر غصے میں آ کر بچی کو سڑک پر زور سے دھکا دیا۔
بچی کے گرنے سے اُس کے ہاتھ اور گھٹنے زخمی ہو گئے۔ موقع پر موجود شہریوں نے ٹریفک اہلکار کے خلاف آواز بلند کی لیکن متعلقہ افسران کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردِعمل یا کارروائی رپورٹ نہیں ہوئی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کورنگی نمبر 4 میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکار اکثر و بیشتر شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے چالان اور دھونس دھمکیوں میں مصروف رہتے ہیں۔
ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے اب یہ بھیڑیئے رشوت خور عوام پر قہر بن کر نازل ہورہے ہیں ۔یہ فارمی انڈے وحشی درندے بنتے جارہے ہیں۔ کورنگی 4 میں اس فارمی انڈے نے بچی کو زمین پر دے مارا۔
کیا یہی تربیت دی جاتی ہے سندھ پولیس میں انکو؟ ٹریفک پولیس کا کام
ناجائز چالان، رشوت، معصوموں پر ظلم۔ pic.twitter.com/7tzwvyhkIY— Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ (@JavedMonis) June 20, 2025
شہریوں نے الزام عائد کیا کہ کئی اہلکار مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر ناجائز طریقوں سے پیسے بٹورنے میں ملوث ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں شہریوں کی بڑی تعداد ٹریفک پولیس کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے متاثرہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔
شہریوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ دار اہلکار کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچی کو فوری طبی امداد اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے تعینات پولیس اہلکار اگر خود شہریوں کے لیے خطرہ بن جائیں، تو یہ ریاستی اداروں کی ناکامی تصور کی جائے گی۔
یہ واقعہ صرف ایک بچی پر تشدد نہیں بلکہ ٹریفک پولیس کے نظام میں موجود بدنظمی اور احتساب کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








