کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں جمعہ کی صبح پیش انے والے افسوسناک واقعہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی ہے جبکہ کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے 25 سے 30 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ موبائل سگنلز بند ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے اور ہر منزل پر 3 پورشن بنے ہوئے تھے۔
عینی شاہد اور جاں بحق خاتون کے بھتیجے نے بتایا کہ عمارت ہمیشہ لوگوں سے بھری رہتی تھی۔ میرے اہل خانہ چوتھی منزل پر رہتے تھے، ایک رشتے دار کا انتقال ہو گیا ہے، خاتون کو تشویشناک حالت میں نکالا گیا، جبکہ تین افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔
ریسکیو حکام نے متاثرہ عمارت کی بجلی اور گیس کی لائنیں کاٹ دی ہیں، جب کہ ملحقہ 2 اور 7 منزلہ عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو کے مطابق عمارت کو 2022، 2023 اور 2024 میں بارہا نوٹس جاری کیے گئے، لیکن نہ مکینوں نے جگہ چھوڑی، نہ انتظامیہ نے عملدرآمد کرایا۔
شہر میں موجود 107 خطرناک عمارتوں میں سے 21 انتہائی خطرناک ہیں، جن میں سے 14 خالی کرائی جا چکی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








