کراچی کی سینئر سول جج سینٹرل کورٹ نے شادمان نالے میں موٹر سائیکل گرنے سے ایک خاتون اور دو ماہ کے بچے کی ہلاکت کے دلخراش واقعے میں متاثرہ شہری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) سینٹرل کو 99 لاکھ روپے سے زائد ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حادثہ متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سی سینٹرل اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے جبکہ نالوں اور سیوریج نظام کی دیکھ بھال اور شہریوں کی حفاظت ان اداروں کا بنیادی فرض تھا۔
متاثرہ شہری دانش کے وکیل ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے بتایا کہ یہ المناک واقعہ جولائی 2022 کی مون سون بارشوں کے دوران پیش آیا۔ متاثرہ خاندان موٹر سائیکل پر سفر کر رہا تھا کہ شادمان برساتی نالے کے قریب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل پھسل کر نالے میں جا گرا۔ اس حادثے میں دانش کی اہلیہ سمن اور ان کے دو ماہ کے بیٹے اذلان جان کی بازی ہار گئے۔
وکیل نے مزید بتایا کہ موٹر سائیکل سوار دانش اور ان کی ایک سالہ بیٹی کو خوش قسمتی سے بچا لیا گیا، تاہم دانش کی اہلیہ سمن کی لاش نالے سے برآمد ہوئی۔ بدقسمتی سے بچے کی لاش واقعے کے بعد نہ مل سکی۔ اس سانحے کے بعد متاثرہ شہری نے فیٹل ایکسیڈنٹس ایکٹ کے تحت ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
عدالت نے متعلقہ اداروں کی جانب سے حفاظتی اقدامات میں مجرمانہ غفلت کو بنیاد بناتے ہوئے متاثرہ خاندان کو ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ شہریوں کی حفاظت اور اداروں کی ذمہ داریوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








