بلوچستان کے شہر چمن میں سرحد کے ٹیکسی اسٹینڈ پر ایک دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور تین دیگر زخمی ہو گئے، جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق دھماکہ خیز مواد مسافروں کے سامان میں چھپایا گیا تھا تاہم اس کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حادثے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کیے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا اور بارڈر کے آس پاس ناکہ بندی کر کے چیکنگ سخت کر دی ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکام سے رابطہ کرکے تحقیقات کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال چمن کے میزی ایڈا علاقے میں تور پل کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں اور قافلے کے محافظوں کی جوابی فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








