آسٹریلوی ہائی کمیشن اور سینٹر فار ایکسی لینس اِن جرنلزم (آئی بی اے) نے صحافیوں کیلئے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے متعلق 14 روزہ سرگرمی پر مشتمل ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے درست رپورٹنگ کے بارے میں تربیت فراہم کرنا تھا۔
پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صنفی مساوات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ وہ معاشرے جو خواتین اور مردوں کو برابر اہمیت دیتے ہیں وہ محفوظ اور صحت مند ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کی کوششوں میں سب سے آگے رہنے کے لیے پرعزم ہے۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر نے اپنے دورہ کوئٹہ کا ذکر کیا، جہاں انہوں نے صنفی بنیاد پر تشدد کی شکار خواتین کی ایک بڑی تعداد سے ملاقات کی جو آسٹریلیا کی امداد سے مستفید ہو رہے ہیں۔
نیل ہاکنز نے بتایا کہ تشدد کا شکار ہونے والوں کو مدد اور دیکھ بھال فراہم کرنا بہت ضروری ہے، تاہم اس کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ان معاشرتی روایتوں کو تبدیل کرنا چاہیے جو تشدد کو قبول کرتے ہیں اور صنفی دقیانوسی تصورات کی سہولت کاری کرتے ہیں۔ یہ تشدد کے رونما ہونے سے پہلے ہی اسے روکنے کا واحد طریقہ ہے۔
معروف آسٹریلوی صحافی اور صنفی مساوات کی وکیل ورجینیا ہوسیگر نے پاکستانی صحافیوں امبر شمسی، ضرار کوہرو اور قانونی ماہر سارہ ملکانی کے ہمراہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو روکنے میں میڈیا کے کردار کے بارے میں اپنے تجربات شیئر کیے۔
ہوسیگر نے کہا کہ جنسی بنیاد پر تشدد تمام قوموں اور تمام کمیونٹیز میں عام ہے۔ بحیثیت صحافی یہ ہمارا کام ہے کہ خواتین کو محفوظ رکھنے میں انتظامی ناکامیوں پر روشنی ڈالیں۔

ٹرینر امبر شمسی نے بتایا کہ چوری، دھوکہ دہی یا دیگر چھوٹے جرائم کے برعکس صنفی بنیاد پر تشدد ایک ایسا جرم ہے جو دوسروں سے جڑا ہوا ہے۔ صحافی اور رپورٹرز اسی معاشرے سے آتے ہیں جو صنفی بنیاد پر تشدد کو برقرار رکھتا ہے۔ اسی لئے انہیں اپنے تعصب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ منصفانہ اور حساس طریقے سے رپورٹنگ کر سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








