وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے لیے کراچی سے بیرون ملک سفر کرنے سے قبل کلیئرنس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ایسے افراد جنہوں نے پہلے کبھی بیرونِ ملک سفر نہیں کیا اور جن کا تعلق صوبہ سندھ سے نہیں ہے، انہیں کراچی سے روانگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام نے بتایا کہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کراچی کے ذریعے بیرون ملک سفر کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اکثر اوقات ایجنٹوں کے دھوکے میں آ کر غیرقانونی کشتیوں کے ذریعے بھیج دیے جاتے ہیں۔
ایف آئی اے نے مزید کہا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا (کے پی) اور دیگر صوبوں کے مسافروں کی اب اسکریننگ کے عمل سے گزرا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت وہ پاسپورٹ ہولڈر جو پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور پہلی بار بیرون ملک جا رہے ہیں، انہیں کراچی کے بجائے اپنے قریبی ہوائی اڈے سے سفر کرنا ہوگا۔ کراچی ایئرپورٹ پر تعینات امیگریشن عملے کو اس پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق آج پرواز SV 709 سے 57 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جن میں 35 عمرہ زائرین اور 22 روزگار ویزہ رکھنے والے شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے ان آف لوڈ کیے گئے مسافروں کے پاسپورٹ پر مہر نہیں لگائی۔
گزشتہ ہفتے ایف آئی اے نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے لیے ایک نیا قانون نافذ کیا تھا، جس کے تحت مسافروں کو گریڈ 18 یا 19 کے کسی اعلیٰ سرکاری افسر سے دستخط شدہ حلف نامہ پیش کرنا ہوگا۔ اس حلف نامے میں اس بات کی تصدیق ضروری ہے کہ متعلقہ شخص صرف اپنے ظاہر کردہ مقامِ روزگار پر کام کرے گا اور یورپ میں غیرقانونی داخلے کی کوشش نہیں کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








