امریکا نے ایک نئی امیگریشن پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت زیادہ تر ایسے افراد جو گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں اب ملک کے اندر رہتے ہوئے درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ انہیں امریکا چھوڑ کر بیرونِ ملک موجود سفارتخانے یا قونصل خانے کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔ یہ تبدیلی امیگریشن نظام میں ایک اہم پالیسی شفٹ قرار دی جا رہی ہے۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے واضح کیا کہ جو افراد اپنے اسٹیٹس میں تبدیلی چاہتے ہیں انہیں صرف غیر معمولی حالات کے علاوہ ملک سے باہر رہ کر قونصلر پروسیسنگ کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔ اس اقدام کو غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس نئی پالیسی کے ذریعے ایک ایسا راستہ بند کر دیا گیا ہے جس کے تحت ویزا ہولڈرز اور وزیٹرز امریکا میں رہتے ہوئے ہی گرین کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔ ناقدین کے مطابق یہ پرانا نظام خاندانوں کو درخواست کے طویل عمل کے دوران ایک ساتھ رہنے میں مدد دیتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے باعث بعض افراد کے لیے جو گرین کارڈ کی امید میں ملک چھوڑیں گے دوبارہ امریکا واپس آنا مشکل یا بعض صورتوں میں ناممکن بھی ہو سکتا ہے۔ یہ پالیسی خاص طور پر طلبہ، عارضی ورکرز اور ٹورسٹ ویزا رکھنے والوں پر اثر انداز ہوگی جنہیں اب درخواست اپنے ملک سے دینی ہوگی۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے مطابق جب افراد اپنے آبائی ملک سے درخواست دیتے ہیں تو اس سے وہ لوگ کم ہو جاتے ہیں جو انکار کے بعد غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح نظام کو زیادہ موثر اور منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بھی اس پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امیگریشن نظام کے غلط استعمال کا دور ختم ہو رہا ہے اور قوانین کو ان کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جا رہا ہے۔
یو ایس سی آئی ایس کے ترجمان زیک کیہلر نے کہا ہے کہ اب جو بھی غیرملکی امریکا میں عارضی طور پر موجود ہو اور گرین کارڈ حاصل کرنا چاہے اسے عام حالات میں واپس اپنے ملک جا کر ہی درخواست دینی ہوگی، سوائے غیر معمولی حالات کے۔انکے مطابق اس اقدام سے نظام زیادہ شفاف اور قانون کے مطابق ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کار اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ویزہ صرف گرین کارڈ حاصل کرنے کا پہلا مرحلہ نہ بنے بلکہ اصل قانونی عمل کے مطابق درخواستیں دی جائیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پہلے سے جمع کروائی گئی درخواستوں پر اس پالیسی کا کیا اثر پڑے گا۔
امریکی حکام کے مطابق کچھ درخواست دہندگان، خاص طور پر وہ جو ملکی معیشت یا قومی مفاد میں اہم سمجھے جاتے ہیں ممکنہ طور پر اپنے موجودہ عمل کو جاری رکھ سکیں گے جبکہ دیگر افراد کو حالات کے مطابق بیرونِ ملک سے درخواست دینے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔
گرین کارڈ حاصل کرنا یعنی قانونی مستقل رہائش حاصل کرنا، ایک طویل اور کئی مراحل پر مشتمل عمل ہے جو بعض اوقات مہینوں سے لے کر کئی سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دس لاکھ سے زائد قانونی تارکینِ وطن گرین کارڈ کے لیے زیرِ التوا درخواستوں کے فیصلے کے منتظر ہیں۔
یو ایس سی آئی ایس کے مطابق اس پالیسی سے زیادہ تر کیسز اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بیرونِ ملک قونصل خانوں میں نمٹائے جائیں گے، جس سے اندرونی نظام پر دباؤ کم ہوگا اور دیگر اہم کیسز جیسے متاثرینِ جرائم، انسانی اسمگلنگ کے متاثرین اور نیشنلٹی کے کیسز پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام موجودہ امیگریشن قوانین اور عدالتی فیصلوں کے مطابق ہے اور ہر کیس کا فیصلہ انفرادی بنیادوں پر تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
سابق اعلیٰ امیگریشن اہلکار مائیکل والورڈے نے اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر غیرمعمولی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام لاکھوں خاندانوں اور آجروں کے منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے اور قانونی امیگریشن میں نمایاں غیر یقینی پیدا کرے گا۔
ان کے مطابق یہ پالیسی ان لوگوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گی جو ہمیشہ قانون کی پابندی کرتے آئے ہیں اور اب وہ ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی تقریباً 40 ممالک کے شہریوں پر مختلف پابندیاں یا سفری پابندیاں عائد کر چکی ہے جبکہ ایک اور پالیسی کے تحت 75 ممالک کیلئے امیگرنٹ ویزا کی اجراء عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں قیام کرنا نہ صرف ڈی پورٹیشن کا باعث بن سکتا ہے بلکہ آئندہ ویزوں کی نااہلی اور 10 سال تک دوبارہ داخلے پر پابندی جیسے سنگین نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








