واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد نہ ملنے پر اتحادی ممالک کے عسکری نیٹ ورک نیٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اس پر اربوں ڈالرز خرچ کیے لیکن جب ہمیں دفاع کی ضرورت پڑی تو غائب ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نیٹو کیلئے موجود رہے لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ہمیں مایوس کیا۔
گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ جنگ جیتنے کے بعد اسٹارمر نے جنگی طیارے بھیجنے ک اعالن کیا، ہم نے انہیں بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت ہی نہیں۔ امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کردیا، بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ہی ڈبو دیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا بحری و فضائی دفاع مکمل طور پر ختمہ وچکا، جن ممالک کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اب آگے آجائیں۔ ایران مین مذاکرات کے قابل کوئی قیادت ہی نہیں، میرا خیال ہے کہ نئے سپریم لیڈر مجتببیٰ خامنہ ای زندہ نہیں ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ ایرانی قیادت امریکی عوام کے ساتھ فراڈ کر رہی تھی۔ پرتشدد لوگوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم ہونا چاہئے۔ ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو ہمارے خلاف استعمال کرتا، وہ پڑوسیوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








