واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور عراق دونوں ممالک سے افواج واپس بلانے کیلئے جنوری کے وسط تک افغانستان میں فوجیوں کی تعداد 4 ہزار 500 سے کم کرکے 2 ہزار 500 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع (پینٹا گون) کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء جاری رکھیں گے جبکہ نیٹو نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اس سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نازک مرحلے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قائم مقام سیکریٹری دفاع کرسٹوفر ملرنے بھی ٹرمپ کے اس اقدام کی تصدیق کی ہے جنہیں گزشتہ ہفتے مارک ایسپر کو اچانک سبکدوش کرنے کے بعد تعینات کیا گیا تھا، انہوں نے افغانستان سے فوجیوں کی سطح 3 ہزار سے کم کرکے 2 ہزار 500 کرنے کیلئے معمولی انخلاء کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے قائم مقام امریکی سیکریٹری دفاع کرسٹوفر ملر نے کہا کہ جنوری 2021ء تک امریکی افواج کی تعداد افغانستان میں 2 ہزار 500 رہ جائے گی جبکہ عراق میں بھی فورسز کا حجم 2 ہزار 500 اہلکاروں تک محدود کردیا جائے گا۔
اس حوالے سے سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر مچ مک کونل نے ٹرمپ حکومت کو اگلے 2 ماہ تک افغانستان اور عراق سے فوج کو واپس بلانے سمیت امریکی دفاع یا خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے 2 ماہ تک دفاعی یا خارجہ محاذ پر کوئی ڈرامائی تبدیلی نہ لانا بے حد اہم ہے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل امریکا میں بھی خاندانی سیاست اور کچن کیبنٹ کا رجحان بڑھ گیا، موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا کی طرح نو منتخب صدر جو بائیڈن کی بیٹی ایشلے بائیڈن بھی حکومت میں ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے تیار ہوگئیں۔
دو روز قبل امریکی ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں ایوانکا کی طرح نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی بیٹی ایشلے بائیڈن کو مستقبل میں بائیڈن انتظامیہ میں اہم ذمہ داری سونپی جائے گی ۔
مزید پڑھیں: امریکا میں ٹرمپ کے بعد بائیڈن کی بیٹی وائٹ ہاؤس پر راج کریگی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








