سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تازہ انٹرویو میں تہلکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار ہے اور جلد ابراہام معاہدوں کا حصہ بن سکتا ہے۔
فاکس بزنس نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت کے ساتھ ان کی “بہت مثبت اور حوصلہ افزا” بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے بقول، غزہ جنگ کے دوران سعودی عرب کے لیے ایسے کسی معاہدے میں شامل ہونا ممکن نہیں تھا، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ “غزہ تنازع کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ ابراہام معاہدے کے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں، جو اس جنگ کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔”
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں ایران کے اثرورسوخ کی وجہ سے سعودی عرب کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ممکن نہیں تھا، تاہم اب صورتِ حال مختلف ہے۔
ان کے مطابق، “ایران کی طاقت میں کمی کے بعد خطے میں نئی سفارتی صف بندی سامنے آ رہی ہے، جس میں سعودی عرب کا شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے قیاس آرائیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہیں۔
تاہم اب تک سعودی حکومت نے ٹرمپ کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ ریاض کا دیرینہ مؤقف ہے کہ جب تک 1967 کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، تب تک وہ اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدے میں شامل نہیں ہو سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








