ایک بار پھر عالمی توانائی کے راستے میں بڑا بحران کھڑا ہو گیا ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ہرمز کی آبنائے کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے اور اس فیصلے کی وجہ امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بتایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ امریکہ نے طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کی کیونکہ اس کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تہران کے مطابق اسی وجہ سے ہرمز کی اہم سمندری گزرگاہ کو دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے جمعہ کے روز اس آبنائے کو عارضی طور پر کھولا تھا تاہم یہ فیصلہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور اسے واپس لے لیا گیا۔
ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان جو ملکی میڈیا پر نشر کیا گیا، میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بندرگاہوں پر پابندیاں ختم نہ ہونے کی وجہ سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ہرمز کی آبنائے دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ناکہ بندی برقرار رہی تو ہرمز کی آبنائے کھلی نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق اس سمندری راستے سے گزرنے کے قواعد تہران طے کرے گا اور کسی بھی جہاز کو ایرانی اجازت کے بغیر اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر بدھ تک ایران کے ساتھ کوئی طویل المدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ جنگ بندی ختم کرنے پر غور کر سکتے ہیں جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








