لاہور کی او پی ایف سوسائٹی میں پیش آنے والے ڈکیتی کیس کے مرکزی مشتبہ شخص عدنان چوہان کو ہفتے کی رات زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم زخمی حالت میں ملا جسے مبینہ طور پر اس کے ہی ساتھی نے لوٹے گئے مال کی تقسیم پر جھگڑے کے بعد گولی مار دی تھی۔
گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ ویڈیو میں دن دیہاڑے ایک نوجوان لڑکی سے موبائل یا بیگ چھیننے کی کوشش دکھائی گئی جس پر عوام میں شدید غصہ پھیل گیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو آٹھ گھنٹے میں ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا جس پر شہر بھر میں ہنگامی کارروائی شروع کی گئی۔
مریم نواز کے نوٹس کے بعد مرکزی ملزم عدنان چوہنگ سے زخمی حالت میں گرفتار، ساتھی فرار۔ جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی سے ٹریس، فائرنگ میں اپنے ساتھی کی گولی لگی، ملزم ہسپتال منتقل۔ https://t.co/HCg7Z0jAFp pic.twitter.com/ZMrBsKHYtu
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) April 18, 2026
واقعے کی 24 سیکنڈ کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کی ایک گلی میں ایک لڑکی موٹرسائیکل پر جا رہی ہوتی ہے کہ اچانک ایک موٹرسائیکل سوار ملزم اس کے قریب آ کر واردات کی کوشش کرتا ہے۔ مزاحمت کے دوران لڑکی توازن کھو کر زمین پر گر جاتی ہے اور کچھ لمحوں تک وہ سڑک پر پڑی رہتی ہے پھر فوراً اٹھ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔شدید خوف کے باوجود وہ سڑک کے بیچ کھڑی ہو کر مدد کے لیے ہاتھ بھی اٹھاتی ہے اور بعد میں وہاں سے چلی جاتی ہے جبکہ ملزم اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔
🚨لاہور، او پی ایف سوسائیٹی pic.twitter.com/2uwzmAismz
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) April 16, 2026
متاثرہ لڑکی کے والد نے بعد ازاں مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو بنیادی ثبوت کے طور پر پولیس کے حوالے کیا۔ یہ ویڈیو انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس پر تیزی سے وائرل ہوگئی جس کے بعد شہریوں نے رہائشی اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بہت سے صارفین نے سوال اٹھایا کہ دن دہاڑے ایسے واقعات کس طرح رونما ہو رہے ہیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور پولیس کو ہدایت دی کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹیاں اور بہنیں ریاست کی ذمہ داری ہیں اور ان کی حفاظت ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے پولیس کو آٹھ گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی جس کے بعد لاہور پولیس نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔
حکام کے مطابق پولیس نے جدید جیو فینسنگ ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مرکزی ملزم عدنان چوہان کی نشاندہی کی۔ کارروائی کے دوران وہ زخمی حالت میں پایا گیا جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے اس کے ہی ساتھی نے جھگڑے کے دوران گولی مار دی تھی۔ پولیس نے اسے حراست میں لے کر فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا۔
عدنان کا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں ناکے لگا دیے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








