دنیا کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جہاں امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائی کے دوران 16 ایرانی کشتیاں تباہ کی گئیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد خطے میں جہاز رانی کے اہم راستوں کو محفوظ بنانا اور عالمی بحری تجارت کو ممکنہ خطرات سے بچانا ہے۔
U.S. forces eliminated multiple Iranian naval vessels, March 10, including 16 minelayers near the Strait of Hormuz. pic.twitter.com/371unKYiJs
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 10, 2026
امریکی حکام کے مطابق ایرانی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے بعد کارروائی کی گئی کیونکہ خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی جا سکتی ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا تھا کہ امریکی فورسز نے چند گھنٹوں کے دوران سرنگیں بچھانے والی 10 کشتیوں اور جہازوں کو بھی تباہ کیا۔
ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو امریکہ مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اگر ایسی سرنگیں پہلے سے بچھائی گئی ہیں تو ایران کو فوری طور پر انہیں ہٹانا چاہیے بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج ان کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی اور میزائل صلاحیتیں استعمال کر رہی ہیں جنہیں اس سے قبل سمندری منشیات اسمگلنگ کے خلاف آپریشنز میں بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کر رہا تھا جسکے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








