ٹرمپ کا پروجیکٹ فریڈم گلے پڑگیا! عالمی مارکیٹس میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Oil prices resurge in the international market
Anadolu Ajansı

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے جبکہ امریکہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے۔

پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ ایرانی میزائلوں نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ کے ایک جہاز کو نشانہ بنایا تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس خبر کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ایران سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ متعلقہ جہاز کو پہلے کئی بار خبردار کیا گیا تھا کیونکہ وہ بغیر اجازت ممنوعہ پانیوں میں داخل ہوا تھا۔ اس کے جواب میں امریکی کمانڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا اور امریکی افواج اپنے مشن کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دن کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ ہوا تاہم بعد میں یہ اضافہ کم ہو کر تقریباً 3.2 فیصد رہ گیا اور قیمت 111.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمتوں میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا گیا جہاں ابتدائی اضافہ 5 فیصد تک گیا لیکن بعد میں تقریباً 3 فیصد اضافے کے ساتھ 104.97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی فوج نے پروجیکٹ فریڈم کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا، جس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اس آپریشن کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ وہ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہاز، 100 سے زائد طیارے، مختلف بغیر پائلٹ کے نظام اور تقریباً 15 ہزار فوجیوں کو تعینات کرے گا۔

ایران نے اس کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر غیر ملکی افواج خاص طور پر امریکہ اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کریں گی تو انہیں حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کی بحریہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے دو امریکی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

پیر کے روز امریکی اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز تقریباً خالی رہی۔ صبح کے وقت صرف ایک جہاز کو اس راستے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ دیگر تجارتی جہازوں کی کوئی سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے کے مطابق اس راستے سے پہلے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی جو عالمی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی ہے۔

فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مثبت بات چیت جاری ہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے دیے گئے جواب کا جائزہ لے رہی ہے۔ ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایک ایرانی جہاز کے عملے کو، جسے گزشتہ ماہ امریکی فورسز نے پکڑا تھا، پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں واپس بھیجا جا سکے اور اسے اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا گیا۔

پیر کے روز ابتدائی طور پر تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی تھی جب پروجیکٹ فریڈم کا اعلان کیا گیا لیکن بعد میں ایرانی حملے کے دعوے کی خبر آنے پر قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔ ایک ماہر کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو چکی ہے کہ یہ سفارت کاری کم اور طاقت کے مظاہرے کا مقابلہ زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔

Related Posts