کیرالا اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ریاست کی سیاسی فضا کو نئی سمت دے دی ہے جہاں انڈین یونین مسلم لیگ نے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کی کامیابی میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
انتخابی معرکے میں پارٹی نے نہ صرف اپنی تنظیمی طاقت کا مظاہرہ کیا بلکہ مالابار خطے میں منظم حکمت عملی کے ذریعے اتحادی جماعت کانگریس کی پوزیشن کو بھی مزید مضبوط بنایا۔
انتخابات میں انڈین یونین مسلم لیگ نے مجموعی طور پر 27 امیدوار میدان میں اتارے جن میں سے پارٹی نے ریکارڈ 22 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس شاندار کارکردگی کے باعث مسلم لیگ اسمبلی میں کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے بعد تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے اور آئندہ یو ڈی ایف حکومت میں اس کے کردار کو نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پارٹی کے ریاستی صدر سید صادق علی شہاب نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے کا کوئی مطالبہ نہیں کر رہے تاہم پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ رائے موجود ہے کہ حکومت سازی میں مسلم لیگ کو زیادہ نمائندگی اور کردار ملنا چاہیے۔
اس انتخاب کی ایک نمایاں پیش رفت انڈین یونین مسلم لیگ کی فاطمہ تہلیہ کی تاریخی کامیابی ہے جنہوں نے پیریمبرا حلقے سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارٹی کی پہلی خاتون رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 81,429 ووٹ حاصل کیے اور 5,087 ووٹوں کے فرق سے اپنے حریف کو شکست دی۔
یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے کیونکہ پیریمبرا وہ حلقہ ہے جو 1980 سے تقریباً 46 برسوں تک سی پی آئی (ایم) کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ اس کے باوجود فاطمہ تہلیہ نے اس روایتی سیاسی حصار کو توڑ کر ایک بڑی انتخابی جیت اپنے نام کی۔
پیشہ کے لحاظ سے وکیل فاطمہ تہلیہ اس وقت کوزیکوڈ میونسپل کارپوریشن کی کونسلر بھی ہیں جبکہ وہ مسلم یوتھ لیگ کی سیکریٹری کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








