سندھ میں ڈگریاں کیسے ملتی ہیں؟ کیسے کیا جا تا ہے پاس؟ جانیں تہلکہ خیز انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

صوبہ سندھ میں تعلیمی شعبے میں ایک بڑا مبینہ کرپشن اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے پورے نظام پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ میرپورخاص بورڈ کے کنٹرولر جو اس وقت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی حراست میں ہیں نے مبینہ طور پر تحقیقات کے دوران ایسے انکشافات کیے ہیں جن میں مختلف تعلیمی بورڈز کے اندر ایک وسیع رشوت اور بدعنوانی کا نیٹ ورک چلنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک میں نہ صرف امتحانی نتائج میں مبینہ رد و بدل کیا جاتا رہا بلکہ غیر قانونی تبادلوں، تقرریوں اور سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور مختلف افراد کے ذریعے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی رقم منتقل کی جاتی رہی جس نے شفافیت اور گورننس پر سنگین سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جاری نوٹسز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مختصر عرصے کے دوران سندھ کے مختلف تعلیمی بورڈز سے تقریباً 20 کروڑ روپے رشوت کی صورت میں جامعات و بورڈز کے محکمے تک پہنچائے گئے۔ یہ رقوم مبینہ طور پر امتحانی نتائج میں تبدیلی، انتظامی ریکارڈ میں رد و بدل اور تبادلوں و تعیناتیوں کے معاملات سے منسلک تھیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ مبینہ رقوم ڈپٹی سیکریٹری فارحان اختر کے ذریعے آگے منتقل ہوئیں اور بالآخر سیکریٹری بورڈز و جامعات تک پہنچائی گئیں۔ اس انکشاف نے پورے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

الزامات کے مطابق کراچی میٹرک اور انٹر بورڈز سے 7 کروڑ روپے، سکھر بورڈ سے 4 کروڑ، حیدرآباد بورڈ سے 4 کروڑ جبکہ شہید بینظیرآباد (نوابشاہ) بورڈ سے 5 کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگیاں کی گئیں۔

مزید تحقیقات کے لیے اینٹی کرپشن نے کئی اعلیٰ افسران کو طلب کر لیا ہے جن میں کراچی میٹرک اور انٹر بورڈ کے سیکریٹریز اور چیئرمینز، سکھر بورڈ کے چیئرمین ظہیر علی چانڑ اور نوابشاہ بورڈ کے چیئرمین آصف میمن شامل ہیں۔

سابق ڈپٹی سیکریٹری فارحان اختر، نوابشاہ بورڈ کے سیکریٹری، سیکشن آفیسر محمد زبیر کٹبار، اور سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد بورڈز کے کنٹرولرز کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ میرپورخاص بورڈ کے سابق چیئرمین اور ایک صوبائی وزیر کے پرسنل سیکریٹری کو بھی تفتیش کے لیے بلایا گیا ہے جس سے معاملہ مزید سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

Related Posts