چھ فروری کو ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے کئی انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔ جہاں ہزاروں افراد ہلاک، زخمی اور بے گھر ہوئے وہیں کچھ لوگ تاعمر اپنے پیاروں کو کھو دینے کی تکلیف میں مبتلا رہیں گے۔
اس غم ناک فضا میں کسی شخص کے ہزاروں من وزنی ملبے سے زندہ نکل آنے پر لوگوں اور ریسکیو ٹیموں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
#TurkeySyriaEarthquake2023
Love #GoodNews ????♥️
Mustafa Avcı, 34-year-old who was rescued 261 hours after the private hospital collapsed in the earthquake in #Hatay met his wife Bilge and his baby Almila, who was born on the night of the earthquake✨#TurkeyEarthquake pic.twitter.com/FfxLqW61lL— Rula El Halabi (@Rulaelhalabi) February 17, 2023
ایسا ہی ایک واقعہ ہے ترکیہ کے جنوب میں واقع صوبے ہاتائے میں ملبے تلے 261 گھنٹے گزارنے کے بعد زندہ نکالے جانے والے ترک شہری مصطفیٰ آوچی کا، جب وہ پہلی بار اپنی نو مولود بیٹی سے ملے، جو زلزلے کی رات اس ہسپتال میں پیدا ہوئی تھی جہاں اس وقت وہ زیر علاج ہیں۔
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، سوشل میڈیا پر وائرل ایک جذباتی ویڈیو میں مصطفیٰ کو ان کی اہلیہ اور بیٹی سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسپتال میں زیر علاج مصطفی نے اپنی ننھی بچی کو پہلی بار گلے لگا کر بوسہ دیا۔
ترکیہ اور شام میں زلزلے سے 45000 افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور لاکھوں افراد شدید سردی میں بے گھر ہو چکے ہیں۔
اس زلزلے کو، جس کی شدت 7.8 تھی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ترکیہ اور شام نے بعض علاقوں میں تلاش اور ریسکیو کارروائیاں روک دی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








