کوالالمپور: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی انتظامیہ نے فرانسیسیوں سے بدلہ لینے سے متعلق ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کا پیغام ڈیلیٹ کردیاہے۔
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے فرانس کے خلاف شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ فرانسیسی صدر میکرون کے اسلام مخالف بیان سے نہیں لگتا کہ وہ مہذب ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ میکرون نے ایک غصیلے فرد کے عمل کا الزام پوری امت مسلمہ پرتھوپا، اس لحاظ سے مسلمانوں کو بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ فرانس کو تاریخی جرائم کی سزادیں۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ فرانس نے اپنی تاریخ میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا۔ مگر مسلمانوں نے قصاص کے قانون پر عمل کرتے ہوئے فرانسیسیوں سے بدلہ نہیں لیا۔مسلمانوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اس گستاخی کا بدلہ لیں۔
سابق ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کسی کی توہین کا حق نہیں دیتا۔ آزادی اظہار کے نام پر کوئی فرد کسی دوسرے شخص کو جاکر برا بھلا کہنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
مہاتیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ مغرب کی اپنی اقدار ہم پر تھوپنے کی کوشش ہماری آزادی چھیننے کے مترادف ہے۔ مغرب اپنے مذہب سے تو دور ہوچکا ہے مگر انہیں دوسرے مذاہب کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔