کرپشن میں ملوث 2 سابق وزراء کو 25 سال قید کی سزا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ سری لنکن میڈیا)

سری لنکا کی ایک عدالت نے جمعرات کو سابق صدر گوٹابایا راج پکسے کی حکومت کے دو اہم وزراء کو بدعنوانی کے ایک اہم مقدمے میں طویل قید کی سزائیں سنائیں، جو ملک میں طاقتور سیاسی خاندانوں کے خلاف ایک اہم قانونی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

کولمبو ہائی کورٹ نے سابق وزیر کھیل مہیند نندا الوَتھگاماگے کو 20 سال قید اور سابق وزیر تجارت انیل فرنینڈو کو 25 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے دونوں پر 53 ملین سری لنکن روپے (تقریباً 1,77,000 امریکی ڈالر) کی سرکاری رقم کے غلط استعمال کا جرم ثابت ہونے پر 2,000 ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا۔

مقدمے کے مطابق، دونوں وزراء نے 2015 کے صدارتی انتخابات میں مہندا راج پکسے کی ناکام انتخابی مہم کو سہارا دینے کے لیے سرکاری پیسے سے 14,000 کیرم بورڈز اور 11,000 ڈرافٹس سیٹس عوام میں تقسیم کروائیں۔ یہ اقدام انتخابی فائدے کے لیے کیا گیا تھا، جو قانوناً ایک سنگین بدعنوانی کی مثال ہے۔

مہیند نندا الوَتھگاماگے راج پکسے حکومت کے وہ پہلے سینئر وزیر ہیں جنہیں بدعنوانی پر سزا سنائی گئی ہے۔ وہ اس وقت ایک اور بڑے مقدمے کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس میں ان پر 2022 میں چین کی ایک کمپنی کو 60 لاکھ ڈالر کا ادائیگی کرنے کا الزام ہے، جس کے بدلے کھاد کی فراہمی کبھی ہوئی ہی نہیں۔

الوَتھگاماگے نے 2020 میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا تھا جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم نے 2011 کا ورلڈ کپ فائنل جان بوجھ کر بھارت کے حق میں ہار دیا تھا۔ اس الزام پر انکوائری تو ہوئی، لیکن کوئی ثبوت نہ مل سکا۔

Related Posts