خیبر پختونخوا کے فساد زدہ قبائلی ضلع کرم میں مختلف گاؤں اور قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس میں اب تک 30 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ پاراچنار جانے والے خیبرپختونخوا حکومت کے وفد کے ہیلی کاپٹر پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے۔
دوسری جانب وزیر قانون خیبرپختونکوا آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی اطلاع غیرمصدقہ ہے، ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، حکومتی وفد بالکل محفوظ ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایک روزہ دورے پر پارا چنار جانا تھا، وزیرداخلہ نے فائرنگ سے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کرنا تھی، تاہم ان کا دورہ خراب موسم کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ادھر کرم سانحہ سمیت پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی نے 25 نومبر کو صوبے بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا ضلع کرم میں کل شام مختلف قبائل اور گاؤں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس میں اب تک 30 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
لوئر کرم کے علاقے بگن (سنی علاقہ) اور علیزئی (شیعہ) کے درمیان کل شام حالات کشیدہ ہونے کے بعد فریقین کے درمیان جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے، فریقین ایک دوسرے کو بھاری اور خودکار اسلحہ سے نشانہ بنارہے ہیں۔
پاراچنار شہر سے 60 کلومیٹر فاصلے پر واقع علاقہ بگن اور لوئر علیزئی کے لوگ جمعرات کے سانحے کے بعد مورچہ زن ہوئے۔ واقعہ کے بعد حالات معمول سے باہر ہوگئے اور فریقین ایک دوسرے خلاف مورچہ زن ہیں۔ رات گئے فریقین نے ایک دوسرے پر لشکر کشی بھی کی، جس کے نتیجے میں دکانوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
ضلع کرم کے تین مقامات اپر کرم کے گاؤں کنج علیزئی اور مقبل، لوئر کرم کے بالش خیل اور خار کلی سمیت لوئر علیزئی اور بگن کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے۔ پولیس کے مطابق تازہ قبائلی جھڑپوں میں اب تک 30 افراد جان بحق جبکہ 100سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
بھاری اور خودکار اسلحہ کے استعمال کے باعث مختلف مقامات میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، متعدد دیہاتوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک کئی خاندان ٹل پہنچ چکے ہیں، دوسری جانب بالش خیل ، خار کلی اور علیزئی سے بھی نقل مکانی ہو رہی ہے۔
ضلع کرم کے کشیدہ صورتحال کے پیش نظر حکومتی اہلکار بھی پاراچنار پہنچ چکے ہیں جس کے ساتھ قبائلی عمائدین سیز فائر اورعلاقے میں پائیدار امن و امان کیلئے جرگے کریں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق جی او سی 9 ڈیو کوہاٹ میجر جنرل ذوالفقار علی بھٹی بھی پاراچنار پہنچ چکے ہیں، گورنر کاٹیج پاراچنار میں اہم جرگہ متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








